جموں کشمیر کو اب ایک نئے انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔یہ بات چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتہ نے گذشتہ دنوں سکاسٹ میں ایک تقریب کے دوران بتائی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری بہترین مہمان نواز ہیں اور یہ اس قدر اپنے مہمانوں یعنی سیاحوں کی حفاظت کرتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر سیاحوں کو بچاتے ہیں اور انہیں ہر آفت سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ جموں کشمیر بھارت کی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جرایم کی شرح بہت کم ہے لیکن اگر یوں کہا جاے تو نہ ہونے کے برابر ہے ۔چیف سیکریٹری کا یہ بیان حقایق پر مبنی ہے کیونکہ ایسی ایک نہیں دو نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ کس طرح کشمیریوں نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوے سیاحوں کو بچالیا ۔اب بھی لوگوں کے دلوں میں اس واقعے کی یادیں تازہ ہیں جب پہلگام میں ایک کشمیری گائیڈ نے اپنی جان دیکر ایک سیاح کو نالہ لدر میں ڈوبنے سے بچالیا۔اس واقعے کو کیسے یہاں کے لوگ بھول سکتے ہیں ۔جھیل ڈل میں جب بھی تیز آندھی چلتی ہے اور وہاں ڈل کی سیر کرنے والے سیاحوں کی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے جو کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو ان کو بچانے والے پہلے کشمیری نوجوان ہی ہوتے ہیں ۔حال ہی میں ایک غریب آٹو ڈرائیور نے بلیواڑ پر اپنے آٹو میں ایک بیگ پایا جو کوئی سیاح اس آٹو میں سفر کے دوران بھول گیا تھا چنانچہ اس غریب آٹو ڈرائیور نے فوری طور پولیس سے رابطہ قایم کیا اور اس بیگ کو اس کے مالک تک پہنچادیا جس میں اس سیاح کے ہزاروں روپے ،قیمتی موبایل اور پاسپورٹ وغیرہ تھے ۔اگر اس آٹو ڈرائیور میں تھوڑی سی بے ایمانی ہوتی تو وہ آرام سے اس بیگ کو اپنے پاس رکھ سکتا تھا لیکن اس نے ایمانداری کا ثبوت دے کر اس بیگ کو اس کے اصلی مالک تک پہنچادیا۔جہاں تک جرایم کا تعلق ہے تو اگر کبھی کبھار یہاں کوئی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ منشیات کا پھیلاﺅ ہے ۔منشیات کی وجہ سے ہی یہاں جرایم کا ارتکاب ہوتا ہے ورنہ کشمیری عوام انتہائی نیک خصلت اور نیک سیرت ہیں ۔یہاں فرقہ واریت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔سب لوگ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں صرف چند سیاستدان اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے کشمیری لوگوں کو بدنام کرتے ہیں ۔کشمیر جنت بے نظیر ،قدرت نے جس طرح اس خطے کو بے پناہ حسن سے نوازا ہے اسی طرح یہاں کے لوگوں کے دلوں کو بھی درد سے بھر دیا ۔کشمیری لوگ ہر ایک کے لئے محبت کے جذبات رکھتے ہیں خواہ وہ کسی بھی فرقے ذات یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو ۔جو سیاح شہر کے ڈاون ٹاون میں جامع مسجد ،خانقاہ معلی یا دوسرے مقامات دیکھنے کے لئے جاتے ہیں تو وہاں کے لوگ ان کا اس طرح خیر مقدم کرتے ہیں کہ سیاح بہت خوش ہوتے ہیں سیاحوں کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام جتنے مہمان نواز ،خوش مزاج اور نیک سیرت ہیں ایسا انہوں نے کسی بھی دوسری قوم کو نہیں دیکھا ہے ۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف جو پرائیویٹ ٹی وی چنلیں پروپاگنڈا کرتی ہیں ان کو لگا م دی جانی چاہئے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔










