کشتواڑ سانحے میں اب تک ساٹھ سے زیادہ لوگوں کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے جبکہ کئی سو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بھی تقریباً دو سو بتائی گئی ۔ان سانحے میں جو یاتری جاں بحق ہوئے ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل بتائی گئیں ۔لیکن اصل صورتحال کیا ہے کتنے لوگ اس سانحے کا شکار ہوگئے اس بارے میں ابھی تک وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتاہے کیونکہ ابھی بھی ملبے کے نیچے تلاشی کاروائی جاری ہے اور گمشدہ افراد کے بارے میں فہرست مرتب کی جارہی ہے ۔کشتواڑ کے دور افتادہ گاﺅں میں چسوتی مچل مندر کی یاترا پر آنے والے یاتریوں پر کس طرح قیامت ٹوٹ پڑی اس کا ان کو احساس نہیں تھا ۔سالانہ مچل یاترا 25جولائی سے شروع ہوکر 5ستمبر تک جاری رہتی ہے ۔اس دوران بھارت کے کونے کونے سے عقیدت مند اس یاترا پر آتے ہیں لیکن 14اگست کی دوپہر اس وقت وہاں قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی جب موسلادھار بارشوں کے دوران اچانک بادل پھٹ گئے اور جس کے نتیجے میں طوفانی سیلاب نے چاروں طرف کہرام مچادیا ۔سیلابی ریلے اپنے ساتھ بڑی بڑی چٹانیں ،درخت اور بھاری مٹی کے تودے بہا کر لے گئے اس طوفانی ریلی کی زد میں کئی چھوٹے چھوٹے پل ،مکان ،عبادت گاہیں ،دکانیں اور گاڑیاں آگئیں جو تنکے کی طرح نیچے کی جانب بہہ گئیں ۔ان مین موجود افراد میں سے بہت کم لوگ اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوسکے جبکہ زیادہ تر اس طوفانی ریلے کے ساتھ بہہ گئے اور آخری اطلاعات ملنے تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا۔9.500فٹ بلندی پر واقع ساڑھے آٹھ کلو میٹر کا سفر چسوتی گاﺅں سے شروع ہوتا ہے یاتریوں کے لئے لنگر ،قیام کے لئے ڈھانچے وہاں موجود تھے جبکہ وہاں رہایشی بستیاں بھی موجود تھیں لیکن ایک ہی پل میں سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا ۔اس سانحے سے ہر آنکھ اشکبار ہوگئی اور ہر دل خون کے آنسو رونے لگا۔یاتریوں کوکیا پتہ تھا کہ ان کی اس یاترا کے دوران اس طرح کا سانحہ پیش آے گا ۔بچے ماﺅں سے جدا ہوگئے ۔بھائی بہن سے بچھڑ گیا ،باپ اپنے خاندان سے جدا ہوگیا ۔غرض کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے افراد خانہ اور عزیز و اقارب کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں ۔ایک سیکورٹی افسر نے بتایا کی چونکہ یہ سارا علاقہ انتہائی کٹھن ہے اسلئے ابھی تک لاپتہ افراد کاپتہ نہیں چلایا جاسکا ہے ۔اگر چہ کسی کسی کا پتہ چلا لیکن لا پتہ افراد کی تعداد کتنی ہے کتنے افراد زخمی ہیں ابھی اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں بتایا جاسکتاہے ۔لاپتہ افراد کی تلاش کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے ۔اور اصل صورتحال کے بارے میں ایک دو دنوں کے اندر اندر پتہ چل سکتاہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح موسم کی قہر سامانیوں سے کس طرح بچا جاسکتاہے ۔اس بارے میں حکومت کو ماہرین ارضیات کے ساتھ رابطہ قایم کرکے ان سے مشورہ کرنا چاہئے ۔ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر تعمیراتی ڈھانچے کھڑے کرنے کی اجازت دے کر ecosystemمیں خلل پڑ رہا ہے ۔بے تحاشہ درختوں کی کٹائی نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔اس کے علاوہ جن راستوں سے پانی بہتا رہتا ہے ان پر بھی لوگوں نے مکان تعمیر کئے اس سے پانی کی قدرتی گذر گاہیں مسدود ہوکر رہ گئیں ۔پانی نکلنے کے راستے خطہ منحنی کی طرح ٹیڑھے میڑھے ہونے لگے ۔یہ بھی بادل پھٹنے کے بعد ہونے والی تباہی کی ایک وجہ بن سکتی ہے ۔اسلئے حکومت کو اس بارے میں غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ اس طرح کا سانحہ پیش نہ آسکے ۔









