آج ملک 79واں یوم آزادی منارہا ہے ۔اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب دلی کے لال قلعے میں ہوگی جہاں وزیر اعظم نریندر مودی قوم سے خطاب کرینگے ۔اس کے علاوہ ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول جموں کشمیر میںتقریبات ہونگی ۔پریڈوں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔جیسا کہ پہلے ہی لکھا جاچکا ہے کہ لوگوں میں اس دن کے حوالے سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔گذشتہ کئی دنوں سے وادی کے شہر وگام میں ترنگا ریلیاں نکالی جارہی ہیں تاکہ لوگ اس دن کی اہمیت سے واقف ہوسکیں ۔15 اگست 1947جب آزادی کا سورج طلوع ہوا تو لوگوں نے اسی طرح جشن منایا جس طرح آج منایا جارہا ہے ۔لیکن جن رہنماوں نے آزادی کی لڑائی لڑی ان کو معلوم تھا کہ آزادی کیا ہوتی ہے اور اس کی کس طرح حفاظت کی جانی چاہئے اسی لئے انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ہم سب کے سامنے مختلف چلینجز ہیں جن کا سامنا کرنے کے لئے ہم سب کو تیار رہنا ہوگا اور آزادی کی حفاظت کی خاطر اگر جانوں کا بھی نذرانہ دینا پڑے گا تو دریغ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ان رہنماوں نے کہا کہ آزادی کی حفاظت اور اس کا استحکام ایک مسلسل ذمہ داری ہے جس سے کسی بھی صورت میں کوتاہی نہیں کی جانی چاہئے ۔محنت و لگن ،دیانتداری اور اتحاد و اتفاق سے ہی آزادی کی حفاظت کی جاسکتی ہے اور تعجب یہ ہے کہ آج بھی ملک میں فرقہ واریت ،بد اعتمادی اور باہمی منافرت جیسے چلینجز پہاڑ کی طرح ہم سب کے سامنے موجود ہیں ۔ہر سوسائیٹی میں بدعناصر کا غلبہ رہتا ہے لیکن اپنی عقل و عمل اور سچائی سے ایسے عناصر کو راہ راست پر لایا جاسکتاہے جو دلوں میں کدورت پیدا کرتے ہیں اور بھائی کو بھائی سے لڑانے کا کام کرتے ہیں ان کی فطرت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے بھی آزادی کی حفاظت کی جاسکتی ہے ۔اس وقت ہمیں چاہئے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر قومی یکجہتی اور بھائی چارے کو مضبوط کریں تاکہ ملک اس سطح پر پہنچ سکے جہاں کوئی اور نہیں پہنچ سکتاہے ۔ہمیں اپنے وطن عزیز کی عزت ،سالمیت اور ترقی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔جب ہم ایسا کرینگے تو یہی ہمارے ملک کو آزاد کرنے والے جانبازوں ،بہادروں اور بے لوث نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل ہے اور یہی ہم سب کا عزم ہونا چاہئے ۔یوم آزادی صرف ایک تہوار نہیں یا یوں کہیے کہ ریلیاں نکالنے کانام نہیں بلکہ یہ ہماری تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو قربانی ،ایثار ،عزم و اتحاد کی سنہری سطور سے لکھا گیا ہے ۔اس وقت ہم سب آزادی کی مٹھاس چکھ رہے ہیں لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کی ہر صورت میں حفاظت کی جاے تاکہ دشمنوں کو اپنا داﺅ پیچ چلانے کا موقعہ نہ مل سکے ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آزادی تو حاصل ہوئی ہے اب جو کرنا ہے وہ حکومت کو کرنا ہے لیکن یہ غلط خیالات ہیں بے بنیاد اپروچ ہے ۔حکومت کی بھی ذمہ داریاں ہیں لیکن لوگوں کے عملی تعاون کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتاہے ۔اس وقت جو صورتحال درپیش ہے اس پر قابو پانے کے لئے جب تک لوگ حکومت کو اپنا دست تعاون پیش نہیں کرینگے تب تک آزادی کی حفاظت نہیں کی جاسکتی ہے ۔ملک کو کمزور کرنے والے عناصرجو فرقہ وارانہ امن و اتحاد میں رخنہ ڈالتے ہین کو الگ تھلک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کی جنگ آزادی میں ہر فرقے اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لے کر آزادی حاصل کرلی ۔اسلئے آزادی کی حفاظت اور استحکام ایک مسلسل ذمہ داری ہے جس سے کسی بھی صورت میں صرَف نظرنہیں کیا جاسکتاہے ۔








