موسم نے پھر سے قہر ڈھانا شروع کردیا ہے اور اس بار جموں اور خطہ پیر پنچال میں طغیانی کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا ہے البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔پٹھان کوٹ جموں شاہراہ پر ایک بڑے پل میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور اس پل کو آمد و رفت کے لئے بند کردیا گیا ۔اس شاہراہ پر بڑی گاڑیوں کی آمدو رفت اگرچہ روک دی گئی لیکن چھوٹی گاڑیوں کے لئے متبادل انتظامات کئے جارہے ہیں ۔شاہراہ پر اس مضبوط پل میں دراڑیں کیونکر پڑ گئیں اس بارے میں ابتدائی طور پر کہا جارہا ہے کہ پل مسلسل بارشوں سے ہوئے پانی کے تیز بہاو کو برداشت نہ کرسکا اور اس میں دراڑیں پڑ گئیں جس پر عوامی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے ۔اسی طرح جموں خطے میں کئی دوسرے مقامات پر بھی چھوٹے چھوٹے پلوں کو نہ صرف نقصان پہنچا بلکہ کئی ڈھانچے بھی سیلاب کے پانی میں بہہ گئے ۔یہی حال خطہ چناب اور پیر پنچال خطے میں بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔جموں شہر میں سیلابی صورتحال اس قدر گھمبیر بن گئی کہ سیلاب کا پانی آئی آئی ایم ہوسٹل میں داخل ہوا جس کے نتیجے میں ہوسٹل میں قیام پذیر طلبہ اور طالبات پھنس گئے جن کو بحفاظت ایس ڈی آر ایف اور پولیس ٹیموں نے باہر نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچادیا ۔کہا جارہا ہے کہ قریب سات فٹ اونچا پانی نزدیکی نالے میں طغیانی آنے کے بعد براہ راست ہوسٹل بلڈنگ میں گھس گیا اور ہوسٹل کی نچلی منزل میں جتنے بھی کمرے تھے وہ سب کے سب زیر آب آگئے ۔چنانچہ کشتیوں اور دیگر جدید آلات کو بروے کار لاکر خوفزدہ طلبہ کو باہر نکالا گیا ۔اب اس موقعے پر ایڈ منسٹریشن کو اس بارے میں صحیح فیصلہ لینا ہوگا یعنی قریبی نالے کی فوری طور پر کھدائی یعنی ڈرجنگ کا انتظام کیا جانا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا جاے گا تو دوسری مرتبہ پھر سے سیلاب کا پانی نہ صرف اس ہوسٹل بلکہ آس پاس کی دوسری عمارتوں میں گھس کر مالی اور جانی نقصان کا سبب بن سکتاہے ۔سال 2014میںجب وادی مین خطرناک سیلاب آیا تو اس سے کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا وہ قارئین کرام کو معلوم ہی ہے لیکن اس کے فوراً بعد دریائے جہلم کی ڈرجنگ کی گئی کیونکہ ماہرین نے بتایا کہ اگر دریائے جہلم کی وقفے وقفے سے چونکہ ڈرجنگ نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجے میں سیلاب نے تباہی مچادی ۔اس کے بعد نہ صرف جہلم بلکہ بعض دوسرے ندی نالوں کی بھی ڈرجنگ کی گئی ۔ماہرین کے مطابق سیلاب سے تباہی کی بڑی وجہ ندی نالوں اور دریاﺅں کے کنارے اور اس کے آس پاس ناجائیز تعمیرات بھی ہے ۔جب تک ان تعمیرات کو ہٹایا نہیں جاے گا تب تک معمولی بارشوں سے باڑھ آسکتی ہے جو کبھی کبھار انتہائی سخت ثابت ہوسکتی ہے ۔جموں کشمیر کا کوئی بھی خطہ ہوجموں ہو پیر پنچال ہو یا خطہ چناب ہو ہر جگہ ندی نالوں کی جب تک مناسب طریقے پر ڈرجنگ نہیں کی جاے گی تب تک سیلاب کا خطرہ سرپر منڈ لاتا رہے گا۔وادی میں بھی اسی طرح جہلم اور اسکی معاون ندی نالوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ موسم انتہائی رنگ پکڑنے لگے ہیں یعنی گرمی کے موسم میں سخت گرمی اور سردی کے موسم میں سخت سردی ۔اسلئے انسانی جان و مال کو بچانے کے لئے ہر طرح کے بچاﺅ اقدامات کو بروئے کار لاکر موسم کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کیا جاسکتاہے ۔










