گزشتہ دنوں صاف ہوا کا عالمی دن یہاں منایا گیا ۔اس سلسلے میں بہت سی تقریبات منعقد ہوئیں اوران تقریبات میں جہاں دوسرے لوگ بھی شامل ہوئے وہیں چند ماہرین نے بھی خطاب کے دوران اس دن کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ فضائی آلودگی کے خطرے سے کیسے نمٹا جاے ۔معروف پروفیسرز اور سائینسدانوں نے اس دن کے حوالے سے آرٹیکل پڑھے ۔سائینسدانوں نے اس دن کی اہمیت اور اس سلگتے ہوئے مسلئے ،عمومی طور پر آلودگی اور خاص طور پر فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات کی وضاحت کی ۔غرض صاف ہوا کے عالمی دن پر تقریبات تو منعقد کی گئیں اور طلبہ اور طالبات کو بھی ان میں شرکت کے لئے لایا گیا ۔بحث مباحثوں کا اہتمام کیا گیا اور اسی طرح بچوں نے اس دن کے حوالے سے کلچرل پروگرام پیش کئے جن میں لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ہوائی آلودگی سے بچیں اور ایسا کوئی کام یا کاروائی نہ کریں جس سے ماحول آلودگی سے بھر جاے یعنی کثافت سے بھر جاے کیونکہ بیماریوں کی بنیادی وجہ ہوائی آلودگی ہی ہے ۔موجودہ دور میں نہ صرف ہوائی آلودگی کا سنگین مسلہ بنی نوع انسان کو درپیش ہے بلکہ پانی اور صوتی آلودگی بھی انسان کے لئے خطرے کی علامت بنتی جارہی ہے۔لیکن اتنا کچھ ہونے کے باوجود لوگ ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں اور وہی کچھ کررہے ہیں یا دہرارہے ہیں جو کچھ وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں۔آج تعلیم عام ہے لیکن عوامی طرز عمل ایسا ہے جیسے کسی نے دو حرف بھی تعلیم کے حاصل نہیں کئے ہونگے ۔پرانے وقتوں میں لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن ان کو ماحولیات کو آلودگی سے بچانے کے تمام گُر آتے تھے لیکن آج صورتحال اس کے بالکل مختلف ہے لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہیں لیکن طرز عمل ایسا کہ جس سے نئی نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔اب ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ صرف تقریبات منانے سے کام نہیں چل سکتابلکہ عملی طور پر فضا کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ہر ایک کو اپنے اپنے حساب سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی ۔حکومت کو اس بارے میں واضع پالیسی اختیار کرنی چاہئے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ فضائی آلودگی پرقابو پایا جاسکے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ سب کچھ حکومت پر نہیں چھوڑا جانا چاہئے بلکہ ہر ایک کو اس معاملے میں سرکار کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تاکہ فضائی اور صوتی آلودگی پر قابو پایا جاسکے ۔بے جا شور وغل ،گاڑیوں کے ہارن اور کارخانوں میں مشینوں کی کھٹ کھٹ پر قابو پانے سے اس مسلئے کا حل نکل سکتاہے ۔ماہرین کے مطابق گرمیوں میں اے سی کے بجائے پنکھوں کا استعمال کرنے سے بھی فضائی آلودگی کم ہوسکتی ہے اور گاڑیوں کو اچھی حالت میں رکھنے یعنی ان کی وقت وقت پر سروسنگ سے بھی فضاکو آلودگی سے بچایا جاسکتاہے ۔گھروں کے گرد ونواح میں سوکھے پتوں کو جلانے سے احتراز کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے نکلنے والے دھوئیں سے بڑی مقدار میں کار بن ڈایکسائیڈ خارج ہوتا ہے اور لوگوں کو اس بارے میں بہتر معلومات حاصل ہیں کہ اس سے کیا ہوتاہے ۔ٹریفک جامنگ بھی فضائی آلودگی کو جنم دیتی ہے اسلئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ فضاکو ہر صورت میں صاف و ستھرا رکھا جانا چاہئے ۔انسان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ گاڑیوں کا کم سے کم استعمال کریں ۔تھوڑی سی مسافت کے لئے گاڑیوں یا سکوٹروں کا استعمال بھی فضا کو آلودہ بنانے کا باعث بنتا ہے اسلئے لوگوں کو اس حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور احساس کرنا چاہئے ۔











