تحریر : شیخ مصطفی الرحمٰن،
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی
گاندھی جی کی نصیحت
قدرت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں وقت ایک نہایت قیمتی نعمت ہے۔ مال و دولت ضائع ہو جائے تو دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن گزر جانے والا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: الوقت أثمن من الذهب، یعنی وقت سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ انگریزی میں بھی مشہور مقولہ ہے: Time is Money۔ جس طرح انسان اپنے مال و دولت کی حفاظت کرتا ہے اور اسے مناسب جگہ خرچ کرتا ہے، اسی طرح وقت کی حفاظت اور اس کا درست استعمال بھی ضروری ہے۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہ زندگی میں کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہیں، جب کہ اسے بے مقصد مشاغل میں ضائع کرنے والے اکثر اپنے اہم مواقع کھو دیتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے وقت کو منظم انداز میں استعمال کیا، انہوں نے علم و فن، تحقیق، تعلیم اور سائنس کے میدانوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ کسی نے نئی تحقیقات کے ذریعے علم کے دروازے کھولے، کسی نے تعلیمی ادارے قائم کیے اور کسی نے ایسی ایجادات کیں جن سے آج بھی کروڑوں انسان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کامیابیوں کے پیچھے محنت، مستقل مزاجی اور وقت کی پابندی کا اہم کردار رہا ہے۔
وقت کی قدر کرنے اور اسے بامقصد سرگرمیوں میں صرف کرنے والی شخصیات میں گاندھی جی کا نام بھی قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے مختلف مذاہب اور نظریات کا مطالعہ کیا، سفر کیے، انسانی معاشروں کا مشاہدہ کیا اور قوموں کی ترقی و زوال کے اسباب پر غور کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی طویل جدوجہد ان کی زندگی کا ایک اہم باب ہے۔ انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل محنت کی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ قومی تحریک کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ بڑے مقاصد محض خواہشات سے حاصل نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے نظم و ضبط، صبر اور وقت کا صحیح استعمال ضروری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی نے اپنی کٹیا میں تین باتیں لکھوا رکھی تھیں:
کام جلد کرو،
بات کم کرو،
اس کے بعد چلے جاؤ۔
یہ مختصر جملے اپنے اندر وقت کی قدر اور زندگی کو منظم بنانے کا اہم پیغام رکھتے ہیں۔
کام جلد کرو کا مطلب یہ ہے کہ جو کام جس وقت کرنا ضروری ہو، اسے بلاوجہ مؤخر نہ کیا جائے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ آج کے کام کو کل پر اور کل کے کام کو پرسوں پر ٹالتے رہتے ہیں۔ کبھی سستی، کبھی غفلت اور کبھی یہ خیال کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، انہیں عمل سے دور رکھتا ہے۔ نتیجتاً معمولی کام بھی ادھورے رہ جاتے ہیں اور اہم مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ اسی لیے حکیم لقمان سے منسوب نصیحت ہے کہ آج کا کام کل پر نہ ٹالو۔ بروقت کام کرنے سے نہ صرف اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ انسان اپنی ذمہ داریاں بھی بہتر انداز میں پوری کر سکتا ہے۔
دوسری نصیحت ہے: بات کم کرو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ غیر ضروری گفتگو سے بچا جائے اور زبان کو مفید باتوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ بعض لوگ طویل گفتگو میں اتنا وقت صرف کر دیتے ہیں کہ عملی کاموں کے لیے فرصت ہی نہیں ملتی۔ اس کے برعکس سمجھ دار لوگ اپنی گفتگو کو ضرورت کے مطابق محدود رکھتے ہیں اور اپنی توانائی مفید سرگرمیوں پر صرف کرتے ہیں۔ فارسی کا ایک مشہور مقولہ ہے:
کم گفتن، کم خفتن، کم خوردن
یعنی کم بولنا، کم سونا اور کم کھانا۔ اس مقولے میں اعتدال اور ضبطِ نفس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی گفتگو اور روزمرہ معمولات میں توازن رکھے اور ایسے کاموں کو ترجیح دے جو اس کی ذات اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوں۔
تیسری نصیحت ہے: اس کے بعد چلے جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی کام کا مقصد پورا ہو جائے یا کسی مجلس میں موجود رہنے کی ضرورت باقی نہ رہے تو بلاوجہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔ بعض اوقات لوگ گفتگو یا ملاقات کا مقصد حاصل ہونے کے باوجود طویل وقت تک بیٹھے رہتے ہیں، جس سے ان کا اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ دانش مندی یہ ہے کہ انسان ضرورت کے مطابق وقت صرف کرے اور پھر اپنی دوسری ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہو جائے۔
ان تینوں نصیحتوں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کام بروقت کیا جائے، گفتگو بامقصد ہو اور غیر ضروری مصروفیات سے بچا جائے۔ تاہم وقت کا صحیح استعمال صرف مصروف رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارا وقت کن کاموں میں صرف ہو رہا ہے۔ اگر انسان اپنا وقت غلط اور نقصان دہ سرگرمیوں میں گزار دے تو محض مصروف رہنا کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
زندگی کا ہر مرحلہ محدود ہے۔ بچپن گزر جائے تو واپس نہیں آتا اور جوانی ختم ہو جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا۔ عربی شاعر نے جوانی کی واپسی کی حسرت کو ان اشعار میں بیان کیا ہے:
أَلَا لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا
فَأُخْبِرَهُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِيبُ
ترجمہ: کاش! جوانی ایک دن پھر لوٹ آتی تو میں اسے بتاتا کہ بڑھاپے نے میرے ساتھ کیا کیا۔
یہ اشعار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر مرحلے کی قدر کرنی چاہیے۔ وقت گزرنے کے بعد اکثر اس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ انگریزی کا مشہور مقولہ بھی اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے: Lost time is never found again، یعنی ضائع شدہ وقت دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ موت کے وقت دنیا کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اسے ایسے گھر سے تشبیہ دی جس کے دو دروازے ہوں؛ وہ ایک دروازے سے داخل ہوئے اور دوسرے سے نکل گئے۔ اس واقعے میں طویل زندگی کے باوجود وقت کے مختصر محسوس ہونے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی عمر کی طوالت پر بھروسا کرنے کے بجائے دستیاب وقت کو بامقصد بنانا چاہیے۔
موت اور زندگی کی ناپائیداری کا احساس انسان کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی محدود ہے تو وہ فضول کاموں سے بچنے اور ایسے اعمال انجام دینے کی کوشش کرتا ہے جن سے اسے اور دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ اسی لیے اہلِ علم و حکمت نے محاسبۂ نفس کی تلقین کی ہے، تاکہ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
موجودہ دور میں وقت کی حفاظت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول اور رابطے کو آسان بنا دیا ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے انسان تعلیم حاصل کر سکتا ہے، نئے ہنر سیکھ سکتا ہے اور دنیا کے حالات سے باخبر رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کا استعمال بے احتیاطی سے کیا جائے تو یہی سہولتیں وقت کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بلا مقصد اسکرول کرتے رہنا، غیر ضروری ویڈیوز دیکھنا، فضول بحثوں میں الجھنا اور دوسروں کی زندگیوں پر بے جا نظر رکھنا ایسی عادتیں ہیں جو روزانہ کئی گھنٹے صرف کروا دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مطالعے، تعلیم، عبادت، خاندان اور دوسری ضروری ذمہ داریوں کے لیے وقت کم پڑنے لگتا ہے۔ مسلسل اسکرین استعمال کرنے سے صحت اور روزمرہ معمولات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنی ضرورت اور فائدے کے مطابق استعمال کیا جائے، نہ کہ انسان خود اس کا اسیر بن جائے۔
وقت کی تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی ترجیحات متعین کرے۔ طالب علم تعلیم اور مطالعے کے لیے وقت مقرر کرے، ملازمت کرنے والا اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرے اور ہر فرد اپنے اہلِ خانہ، سماجی تعلقات اور ذاتی اصلاح کے لیے بھی مناسب وقت نکالے۔ دن کے اختتام پر چند لمحے اپنے معمولات کا جائزہ لینے کے لیے مختص کیے جائیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ وقت کہاں صرف ہوا اور کن کاموں میں بہتری کی گنجائش باقی ہے۔
مختصر یہ کہ گاندھی جی کی مذکورہ نصیحتیں انسان کو سادہ مگر مؤثر اصولوں کی یاد دہانی کراتی ہیں: کام میں تاخیر نہ کرو، غیر ضروری گفتگو سے بچو اور فارغ وقت کو بے مقصد نہ گزارو۔ کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان کے پاس دوسروں سے زیادہ وقت ہو؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے حصے کے وقت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔
وقت کی قدر دراصل زندگی کی قدر ہے۔ جو شخص اپنے وقت کو علم، محنت، کردار سازی اور خدمتِ خلق میں صرف کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کو زیادہ بامقصد بنا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر دن کو ایک نئے موقع کی حیثیت سے دیکھیں، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ہماری زندگی کا کوئی قیمتی لمحہ بے فائدہ ضائع نہ ہو۔












