منشیات کے خلاف عالمی دن منانے کا سب سے بڑا مقصد و مدعا صرف یہ ہے کہ لوگوں کو نشہ آور اشیاءاستعمال کرنے سے روکا جاسکے ۔اس موقعے پر دنیا بھر میں خصوصی تقاریب منعقد ہوئیں جن میں مقررین نے لوگوں اور خاص طور پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ ہر صورت میں منشیات یعنی نشہ آور اشیاءکے استعمال سے دور رہیں کیونکہ اس سے انسان کا دماغ ماوف ہوکر رہ جاتا ہے اور وہ کوئی کام کاج کرنے کے قابل نہیں رہتا ہے ۔نہ تو زندگی میں کوئی اچھا کام کرنے کے قابل رہتا ہے اور نہ ہی اسے رشتوں کے تقدس کا خیال رہتا ہے ۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ نشہ کرنے سے جہاں انسان کوئی کام کرنے سے محروم رہ جاتا ہے بلکہ اسے یہ تک خیال نہیں رہتا ہے کہ کون ماں ہے کون بہن ہے اور کون بیٹی ۔وہ ہر عورت کو صرف عورت ہی تصور کرتا ہے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے اسے رشتوں کے تقدس کا کوئی خیال نہیں رہتا ہے اور وہ نشے کی حالت میں اپنی ماں بہن کی عزت کی بھی کچھ پروا نہیں کرسکتاہے ۔نشے میں دھت شخص کو کسی بھی محفل میں بٹھانے کا تصور تک نہیں کیاجاسکتا ہے وہ نشے میں ہونے کی وجہ سے محفل میں رنگ میں بھنگ ڈال سکتا ہے ۔وادی میں سرکاری طور پر اگرچہ منشیات کا خاتمہ کرنے کے لئے بہت کچھ کیا جارہا ہے لیکن جیسا کہ اس سے پہلے بھی کہا گیا ہے کہ جب تک سول سوسائیٹی اور دوسری سماجی ،دینی اور اصلاحی تنظیمیں اس وبا ءکے خلاف اٹھ کھڑی نہیں ہونگی تب تک منشیات پر قابو پانے میں سرکار کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی ہے ۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر منشیات ،منشیات کادھندا کرنے والوں اور اس کی کاشت کرنے والوں کے خلاف حکومت کا بھر پور ساتھ دینا چاہئے تب کہیں اس وباءپر قابو پایا جاسکتا ہے ۔یہاں ہر سطح پرلوگ منشیات کے خلاف ہیں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کا بھائی بیٹا ،بیٹی یا کوئی اور رشتہ دار اس وبا میں مبتلا ہوجاے لیکن کئی عناصر ایسے ہیں جو خفیہ طور پر منشیات کا دھندا کرتے ہیں ان لوگوں نے اپنی بیویوں ،بیٹیوں اور بہنوں کو اس کام پر لگایا ہے ۔لیکن پولیس نے ان بدذات عورتوں کے خلاف جو مہم چھیڑی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہونے لگی ہے اور اب تک تقریباًنصف درجن ایسی عورتوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو منشیات کی سمگلنگ میں سرگرم رہی ہیں اب بھی بہت سی عورتیں یہ دھندا کرتی ہیں جن کو گرفتار کروانے میں لوگوں کو پولیس کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہئے ۔اگر ان کو معلوم ہوتا کہ وہ کس طرح نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بنارہے ہیں تو شاید وہ اس دھندے سے توبہ کرتے لیکن ان کو اس کا کوئی احساس نہیں ۔حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ ڈرگس کا دھندا کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنائے یعنی ان کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے بعد منشیات سمگلروں کو پھانسی پر لٹکانا چاہئے تاکہ دوسرے ایسے ہی لوگ جو اس طرح کے دھندے میں ملوث ہونگے عبرت حاصل کرکے اس دھندے سے توبہ کرتے ۔حکومت کو چاہئے کہ منشیات کا دھندا کرنے والوں کو پبلک میں بے نقاب کرے تاکہ سماج کو ایسے عناصر کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھا جاسکے جو نوجوان نسل کو تباہ کرنے پرتُلے ہوئے ہیں۔










