سرینگر/سرینگر جموں شاہراہ پر مختلف جگہوں پر پسیاں گرآنے اور زمین کھسک نے کی وجہ سے وادی کا برون ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جبکہ شاہراہ پر 10ہزار کے قریب گاڑیاں مختلف پڑاﺅں پردرماندہ ہوچکی ہیں۔ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مسافر شاہراہ پر پھنس چکے ہیں۔ وادی کو بیرون دنیا سے ملانے والی واحد سڑک سرینگر جموں شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک کےلئے بند کردیا گیا ہے کیوں کہ شاہراہ پر پنتھال، کیلا موڑ اور رامسو کے مقام پر پسیاں اور چٹانیں گرآئی ہیں جبکہ کئی ایک جگہوں پر سڑک کھسک گئی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت ناممکن بن گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز علی الصبح شاہراہ پربارش کے دوران پنتھال کے علاقے میں پہاڑی سے چٹانیں گر آنے کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا جس کے نتیجے میںشاہراہ پر سڑک بھی دھنس گئی ہے ۔ جبکہ شاہراہ کو قابل آمدورفت بنانے کےلئے متعلقہ محکمہ کام پر لگا ہے تاہم بار بار پسیاں گرآنے سے کام میں رُکاوٹ آرہی ہے ۔ اس بیچ ذرائع نے بتایا کہ پنتھال کے علاوہ کیلا موڑ اور رامسو کے مقام پر بھی اسی طرح پسیاں گرآنے اور سڑک کھسک نے کے واقعات رونماءہوئے ہیں جس کی وجہ سے شاہراہ پر دونوں اطراف 10ہزار سے زائد گاڑیاں درماندہ ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تر مال بردار گاڑیاں شامل ہیں ۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ سینکڑوں مسافر بردار گاڑیاں بھی شاہراہ پر پھنسی ہوئی ہیںجن میں ہزاروں کی تعداد میں مسافر بھی درماندہ ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ شاہراہ کو قابل آمدورفت بنانے کےلئے کام دن رات جاری ہے تاہم موسمی صورتحال کی وجہ سے اس میںرُکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ ادھر محکمہ ٹریفک نے جموں سرینگر شاہراہ پرسفر کرنے والے خواہش مندمسافروں سے تلقین کی کہ وہ موسم اور سڑک کی حالت کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے بعد ہی شاہراہ پرسفر کا ارادہ کرے تاکہ انہیںکسی مشکل کاسامناناکرناپڑے ۔












