صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی راہ پر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے محض اسپتالوں کی تعداد بڑھانا یا جدید طبی آلات فراہم کرنا کافی نہیں۔ صحت کے مؤثر نظام کی بنیاد معیاری علاج، بیماریوں کی بروقت تشخیص، احتیاطی تدابیر اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویے پر استوار ہوتی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے ڈاکٹروں کو علاج میں انسانی ہمدردی کو مرکزی حیثیت دینے، طبی تحقیق کو فروغ دینے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان طبی سہولیات کا فرق ختم کرنے کی تلقین اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں منعقدہ طبی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے صحت کے شعبے کو درپیش متعدد اہم چیلنجوں کی نشاندہی کی۔ ان میں طرز زندگی سے متعلق بیماریاں، طبی تحقیق کی ضرورت، جدید ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال اور دیہی علاقوں تک معیاری علاج کی رسائی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں ان مسائل پر توجہ دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شہری علاقوں کے مقابلے میں دور دراز دیہات کے لوگوں کو کئی مرتبہ علاج کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی کمی، تشخیصی سہولیات تک محدود رسائی اور مالی مشکلات مریضوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ طبی سائنس نے نمایاں ترقی کی ہے اور جدید تشخیصی طریقوں اور ادویات نے متعدد بیماریوں کے علاج کو آسان بنایا ہے۔ تاہم ان ترقیوں کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب ان سہولیات کو بڑے شہروں اور مخصوص طبی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے دور دراز علاقوں کے عوام تک بھی پہنچایا جائے۔ ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل طبی خدمات اور ڈاکٹروں کی مسلسل تربیت اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ بنیادی طبی ڈھانچے، ضروری آلات، ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی بھی یقینی بنانا ہوگی۔دوسری جانب ذیابیطس، بلند فشار خون، موٹاپے اور جگر کی بیماریوں جیسے مسائل میں اضافہ صحت عامہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جارہا ہے۔ ان بیماریوں کے علاج پر بھاری اخراجات اٹھانے کے بجائے اگر ابتدائی مرحلے میں ان کی تشخیص اور روک تھام پر توجہ دی جائے تو نہ صرف انسانی تکالیف کم ہوسکتی ہیں بلکہ خاندانوں پر مالی بوجھ بھی گھٹایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے طبی اداروں کو عوامی بیداری کی مہمات چلانے، صحت مند طرز زندگی کی اہمیت اجاگر کرنے اور دیہی سطح پر طبی جانچ کے انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔طبی تحقیق بھی اس پورے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ مقامی آبادی کی ضروریات، یہاں پائی جانے والی بیماریوں اور صحت سے متعلق مخصوص مسائل پر تحقیق سے علاج کے زیادہ مؤثر طریقے سامنے آسکتے ہیں۔ طبی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوان ڈاکٹروں اور محققین کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں تحقیق کے لیے مناسب وسائل فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ڈاکٹروں کے لیے بہتر حالاتِ کار اور ذہنی سکون کا انتظام بھی ضروری ہے، کیونکہ مسلسل دباؤ اور ضرورت سے زیادہ کام ان کی کارکردگی اور مریضوں کی دیکھ بھال کو متاثر کرسکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ علاج محض ایک طبی عمل نہیں بلکہ انسانی خدمت بھی ہے۔ مریض اسپتال میں صرف دوا یا تشخیص حاصل کرنے نہیں آتا بلکہ وہ اپنی تکلیف کے وقت توجہ، تسلی اور اعتماد کا بھی طلب گار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کا نرم لہجہ، مریض کی بات غور سے سننا اور اس کی پریشانی کو سمجھنا علاج کے تجربے کو بہتر بناتا ہے۔ اس لیے طبی مہارت کے ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی طبی پیشے کا بنیادی اصول بنایا جانا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر کی تلقین اسی وقت بامعنی ثابت ہوگی جب اس پر عملی پیش رفت نظر آئے۔ متعلقہ اداروں کو دیہی طبی مراکز کی حالت بہتر بنانے، احتیاطی نگہداشت کو فروغ دینے، تحقیق کے مواقع بڑھانے اور ڈاکٹروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی جانب ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ صحت کے شعبے میں کامیابی کا اصل پیمانہ صرف جدید عمارتیں یا مشینیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کو ضرورت کے وقت معیاری علاج کتنی آسانی سے میسر آتا ہے۔ جب جموں و کشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی شہری آبادی کے برابر طبی سہولیات دستیاب ہوں گی اور ہر مریض کو عزت و ہمدردی کے ساتھ علاج ملے گا، تبھی ایک مضبوط اور عوام دوست نظام صحت کا خواب حقیقت بن سکے گا۔













