پولیس نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں ایک ایسے گروہ سے وابستہ پانچ افراد جن میں ایک عورت بھی شامل تھی کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کرلیا گیا اور ان سے پوچھ تاچھ کے بعد سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں ۔اس سے قبل چھتہ بل ویر کے قریب رہنے والے ایک ایسے نوجوان کی لاش جہلم سے برآمد کرلی گئی جو گزشتہ کئی دنوں سے اچانک لاپتہ ہوگیا تھا ۔اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بقول ان کے اس نوجوان کو قتل کیا گیا ہے ۔سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے اس کا پتہ تو بعد میں چل سکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس طرح کے واقعات وادی میں نہیں ہوتے تھے جرایم کی رفتار کافی کم تھی اور مرنے مارنے کا لوگ تصور تک نہیں کرتے تھے ۔گذشتہ دنوں گاندربل کے ایک گاﺅں میں ایک خاتون نے مٹی کا تیل چھڑک کر خود کو آگ لگادی ہسپتال میں دو تین دنوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد آخرکار وہ زندگی کی جنگ ہار گئی ۔ہارون کے واقعے کو ابھی لوگ بھولے نہیں جہاں کمسن لڑکی اور لڑکے نے بیک وقت خود کشی کی ان میں سے ایک کی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرے کو ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں اس وقت بھی وہ زیر علاج ہے ۔ایسے واقعات اور ایسی وارداتیں تو فلموں میں ہی دیکھنے کو ملتی تھیں لیکن اب یہاں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہونے لگے جس سے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔پولیس نے بڈگام میں جس گینگ کو پکڑا اس کے بارے میں پولیس نے جو انکشافات کئے ان کے مطابق گینگ میں شامل لوگ اس عورت کو چارے کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس کی آڑ میں لوگوں کو لوٹتے تھے اور موٹی موٹی رقمیں اینٹھ لیتے تھے ۔ایسا آج تک یہاں نہیں ہوا تھا جب ایک عورت اپنی عزت و وقار کی پروا نہ کرتے ہوے ایسے گھناونے کام کرے گی ۔اسی طرح ہارون مین جو واقعہ رونما ہوا اس پر بھی عوامی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔جس عمر کے بچوں نے اپنی جانیں لینے کی کوشش کی کہا جارہا ہے کہ ابھی ان کے دودھ کے دانت بھی نہین نکلے تھے اور یہی نوجوان خود کو کس طرح مارنے پر آمادہ ہوگئے ان پر ایسی کون سی آفت آن پڑی تھی ۔گاندربل کی خاتون نے کیونکر خود پر آگ لگادی ۔ایسے سوالات ہرانسان کے دل و دماغ پر ہتھوڑے چلارہے ہیں ۔یہ سب کچھ کشمیریوں کی اخلاقی تنزلی کی طرف اشارہ ہے ہم کس حدتک اخلاقی طور پر گرگئے ہیں ۔ان حالات کو دیکھ کر اصلاح معاشرہ کی طرف دھیان دینا چاہئے اور سب سے پہلے ہماری نظر دینی علمائ،ایمہ اور خطیبوں کی طرف جاتی ہے جن میں ابھی بھی اتنی طاقت ہے کہ وہ کشمیری سماج میں انقلابی تبدیلیاں لاسکتے تھے لیکن اب ان میں اتنی طاقت نہیں رہی ان کے وعظ میں اتنا وزن نہیں رہا کہ لوگ اس کو سنجیدگی سے لیتے ۔اس کے لئے دینی علما ءخود ذمہ دار ہیں ۔کیونکہ ان میں سے بیشتر اب ایکدوسرے پرکیچڑ اچھالنے لگے ہیں لوگوں کی رہنمائی کا دعوئی کرنے والے اب ایسا رول ادا کرنے لگے ہیں کہ اب لوگوں میں ان کی امیج ختم ہونے لگی ہے جوخود کی اصلاح نہیں کرسکتا ہے وہ کس طرح معاشرے کے لئے مصلح بن سکتا ہے ۔اب یہ کام والدین کو کرنا ہوگا اساتذہ کو انجام دینا ہوگا بلکہ ان لوگوں پر یہ بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے جو سماج میں عزت دار کہلاتے ہیں تب کہیں جاکر کشمیری سماج میں سدھار کی امید کی جاسکتی ہے ۔











