ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ آئیندہ سال یعنی 2022-2023کے بجٹ براے جموں کشمیر کے لئے مرکزی سرکار خصوصی پیکیج کا اعلان کرنے والی ہے ۔یعنی ایک مخصوص بجٹ یوٹی کے لئے ہوگا جس میں سیلف ایمپلائیمنٹ ،یوتھ ،انفراسٹرکچر ،بجلی ،صحت ،تعلیم اور انڈسٹری جیسے اہم شعبوں پر توجہ دی جاے گی ۔سرکاری ذرایع کامزید کہنا ہے کہ بجٹ کی پیشگی تیاری کے لئے لیفٹننٹ گورنر سمیت دیگر کئی سینئیر افسر عنقریب دہلی جارہے ہیں اور وہاں وزیر خزانہ اور دیگر اعلیٰ افسروں کے ساتھ ملاقات کرکے بجٹ پر تبادلہ خیال کرینگے ۔خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سال ریکارڈ بجٹ ملنے کی توقع ہے کیونکہ اس کا اشارہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنے دورہ جموں کے دوران دیا ہے ۔اس بجٹ میں نئے صنعتی پیکیچ کے پیش نظرصنعتوں کو زیادہ حصہ ملے گا۔بجٹ کی پیشگی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ اگلے برس کے بجٹ میں جموں کشمیر کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان متوقع ہے ۔یعنی اگلے برس کے لئے جموں کشمیر کاجو بجٹ ہوگا وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا اور اس میں جموں کشمیر کے لئے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا جس سے یہاں کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی اُمید ہے ۔یہ پیکیج کیا ہوگا اور ہوگا بھی یا نہیں اس بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔لیکن اگر بجٹ میں کشمیر کے لئے کچھ ہوگا تو اس سے واقعی کشمیر میں مالی استحکام پیدا ہوسکتا ہے ۔کشمیر میں چونکہ حالات کی وجہ سے مالی استحکام کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکا ہے اسلئے اگر اب مرکز کی طرف سے بجٹ میں کچھ زیادہ رقم مختص کی جاے گی تو واقعی اس کا مثبت اثر یہاں کی اقتصادیات پر پڑ سکتا ہے ۔صنعتوں کو فروغ ملے گا اور اور سیلف ایمپلایمنٹ سے واقعی بے روزگاری پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔کیونکہ بے روزگاری یہاں کا سب سے اہم مسلہ ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ اگر بے روزگار ی پر قابو پایا جاے گا تو اس سے حقیقی طور پر دوسرے مسایل خود بخود حل ہوجاینگے بشرطیکہ بے روزگا ر نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے بارے میں کچھ نہ کچھ گارنٹی دی جاے گی۔اس کے ساتھ ہی صنعتوں کا پھیلاو بھی ہوگا جیسا کہ سرکاری ذرایع نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت یہاں صنعتوں کو پھیلانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے والی ہے ۔جہاں تک صنعتوں کاتعلق ہے تو کشمیر ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں صنعتوں میں بہت پیچھے ہے ۔اس کی شاید یہ وجہ ہوگی کہ صنعتوں کی ترقی کے لئے اب تک کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک جن نوجوانوں نے سیلف ایمپلائیمنٹ کے تحت اپنے یونٹ قایم کئے ہیں ان کو وقت وقت پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔کبھی خام مال کی عدم دستیابی کا رونا تو کبھی مارکیٹ نہ ملنے کی شکایت۔غرض اگر اب مرکزی حکومت کشمیر میں صنعتی انقلاب لانے اور سیلف ایمپلائیمنٹ کو بڑھاوا دینے کے لئے بجٹ میں بھاری رقم مختص رکھے گی تو اس سے واقعی یہاں مالی استحکام پیدا ہوگا۔












