محکمہ امور صارفین نے کچھ عرصہ قبل صرف ان راشن کارڈ ہولڈرز کو راشن کا مستحق قرار دیا جو ہر ماہ کی مقررہ تاریخ پر راشن گھاٹ پر بذات خود حاضر ہوکر ایک مشین پر اپنے انگوٹھے کا عکس دے کر راشن حاصل کرسکتے ہیں ۔ایک جانب حکومت نے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا اور دوسری جانب اب محکمہ امور صارفین نے سرکاری راشن کاحصول بھی مشین پر انگوٹھے کے عکس سے مشروط کرکے عام لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کردیں ۔صارفین نے اسے عوام کے لئے بے عزتی سے تعبیر کرتے ہوے اس نظام کو فوری طور بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ حسب سابق جس طرح راشن فراہم کیاجاتا تھا اسی طرح راشن کی تقسیم کاری عمل میں لائی جانی چاہئے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ راشن گھاٹ پر ہر کنبے کی مکمل تفصیلات کا ریکارڈ ہوتی ہیں ۔اس ریکارڈ میں کنبے کے ہر فرد جس کا راشن کارڈ پر اندراج ہوتا ہے کا آدھار نمبر تک درج ہوتا ہے اب یہ کیسے ممکن ہے کہ صارفین زیادہ راشن حاصل کرینگے اگر سٹور کیپر کو کسی راشن ٹکٹ کے بارے میں کوئی خدشہ دل میں پیدا ہوگا تو اس کی باضابطہ ویری فکیشن کی جاسکتی ہے ۔معززین شہر کے مطابق راشن ٹکٹ گھر کے مالک کے نام پر درج ہوتی ہے ۔کبھی کبھار بیماری کی صورت میں اس کے لئے گھر سے نکل کر اس کے لئے راشن گھاٹ پر جانا ناممکن بن جاتا ہے بعض اوقات ہمساے ،دوست یا رشتہ دار بھی اس کام میں مدد کرتے تھے لیکن اب یہ ناممکن بنادیا گیا جو بالکل غیر ضروری اور معززین شہر کی بے عزتی کے مترادف قرار دیا جاتا ہے ۔کیونکہ گرمی ہو یا سردی دھوپ ہویا بارشیں گھر کے عمر رسیدہ شخص جس کے نام پر راشن کارڈ ہوتا ہے کو ہر صورت میں راشن گھاٹ پر جاکر مشین پر انگوٹھے کا عکس دینا پڑتا ہے ۔یہ مشین جسے بائیو میٹرک نظام کے نام سے جانا جاتا ہے صرف اس وقت کام کرسکتی ہے جب نیٹ ورک ٹھیک ٹھاک اور اچھی طرح سے کام کرتی ہوگی اور اگر نیٹ نہیں چلتا ہوگا تو صارفین کو پھر اگلے دن راشن گھاٹ پر آنا پڑتا ہے ۔یہ سلسلہ کئی کئی دنوں تک چلتا رہتا ہے ۔اس بارے مین سٹو ر کیپروں کا کوئی قصور نہیں انہیں اوپر سے ہی اس طرح کے احکامات صادر ہوے ہوتے ہیں ۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر کوئی راشن کارڈ ہولڈرز کسی وجہ سے یعنی صحت یا مصروفیات کی وجہ سے راشن گھاٹ پر نہیں جاسکتاہے تو اس کنبے کو اس مہینے کے راشن سے محروم کردیاجاتا ہے ۔معززین شہر کے ایک وفد نے بتایا کہ ان کے لئے یہ عمل کسی مصیبت سے کم نہیں ہے ۔جس کو فوری طور ختم کیاجانا چاہئے ۔دوسری جانب ہزاروں بیوہ خواتین کے نام پر راشن کارڈ درج ہین ان کو بھی ہر صورت مین چاہے موسمی حالات کچھ بھی ہوں یا وہ بیمار ہی کیون نہ ہوں ان کو بھی راشن گھاٹ پر جاکر راشن لینے جانا ہی پڑتا ہے ۔کیا یہ فیصلہ صحیح ہے ؟ عوامی حلقوں نے ایل جی سے اپیل کی ہے کہ ان کے لئے پہلے کی طرح سرکاری گھاٹوں سے راشن کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہئے تاکہ وہ بغیر کسی کوفت سرکاری راشن حاصل کرسکیں ۔











