کل یعنی یکم اکتوبر کو جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کی ووٹنگ ہوگی ۔90نشستوں والی جموں کشمیر اسمبلی کی 50نشستوں کے لئے پہلے دو مراحل میں ووٹنگ اختتام پذیر ہوئی ہے اور دونوں مراحل تشدد سے پاک پرامن طور انجام پذیر ہوئے ۔لوگوں نے بھی اچھی خاصی تعداد میں اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کیا ۔البتہ دوسرے مرحلے میں سرینگر ضلع کی آٹھ نشستوں پر ووٹنگ کی شرح کچھ زیادہ نہیں رہی لیکن لوگوں نے کھلے دل سے بغیر خوف یا ڈر اپنے ووٹوں کا استعمال کیا اور اپنے من پسند امیدواروں اور پارٹیوں کو ووٹ دئے ۔کل ووٹنگ کے تیسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ ہوگی ۔40سیٹوں کے لئے لوگوں کو ووٹ ڈالنے ہیں جن میں 26نشستیں جموں اور 14وادی کی ہیں ۔سنیچر کو مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماﺅں نے بڑے بڑے چناوی جلسوں سے خطاب کیا اور اپنی پارٹیوں کے منشور کو عوام کے سامنے رکھ کر انہیں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے ۔جیسا کہ پہلے بھی اس بات کا تذکرہ کیا جاچکاہے کہ انتخابات جمہوری طرز نظام کی روح ہے اور اسی سے حکومتیں بنتی ہیں اور وہ بھی عوام کی خواہشات کے عین مطابق ۔یعنی لوگ از خود اپنے نمایندوں کو چن کر اسمبلی یا پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں جہاں وہ لوگوں کے جائیز مسایل و مشکلات حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔جمہوری طرز نظام میں جتنی ذمہ داریاں بر سر اقتدار پارٹی یا پارٹیوں کے ممبران پر عاید ہوتی ہیں اتنی ہی ذمہ داریاں حزب اختلاف کے ممبروں پر بھی ہوتی ہیں۔قارئین کرام کو معلوم ہوگا کہ جموں کشمیر میں دس سال بعد اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں اور اب تک جو دو مراحل گزرے ہیں ان کا اختتام اچھی طرح سے ہوا ہے ۔کوئی تشدد نہیں کوئی لڑائی جھگڑے نہیں ۔کسی کسی جگہ معمولی واقعات رونما ہوئے جن پر فوری طور قابو پایا گیا۔چناﺅ کے آخری مرحلے سے قبل جموں اور وادی میں جن بڑے رہنماوں نے چناوی ریلیوں سے خطاب کیا ان میں وزیر اعظم نریندر مودی ،وزیر صحت جے پی نڈا ،وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ کئی دوسرے مرکزی وزیر اور لیڈر شامل تھے جبکہ راہل گاندھی کے علاوہ پرینکا گاندھی اور ملک ارجن کھڑ کے نے بھی چناوی جلسوں میں کانگریس کا منشور سامنے رکھ کر لوگوں سے ووٹ مانگے ۔بہر حال 8اکتوبر کو ووٹ شماری ہوگی اور اسی دن شام تک حکومت کے خدو خال واضع ہوجائینگے ۔چناوی جلسوں سے خطاب کے دوران ہر پارٹی لیڈر یہ دعوی کرتا رہاہے کہ ان کی پارٹی حکومت تشکیل دے گی ۔کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ وہ الیکشن ہار جاے گا ۔بہر حال ہار جیت تو مقدر کی بات ہے ۔کس کے نصیب میں جیت ہوگی اور کس کے حصے میں ہار ہوگی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔8اکتوبر کو ہی پتہ چل سکتاہے کہ عوام نے کس کو جیت دلائی ہے اور کس کو مسترد کردیا ہے ۔ایک بات ضرور ہے کہ جمہوری طرز نظام میں ہی لوگوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوتاہے کہ وہ کس کو برسر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان کے ووٹوں سے ہی ممکن ہوسکتاہے ۔جہاں تک الیکشن کمشن کا تعلق ہے تو اس نے ووٹروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں اور اس طرح کمشن نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاکر عوام سے داد تحسین حاصل کرلی ہے ۔












