گلدان، دیوی- دیوتا¶ں کی ٹیراکوٹا تختیاں، جین تیرتھنکروں کے مجسموں کے علاوہ بھگوان بدھ اور بھگوان شری کرشن کے مجسمے بھی شامل
نئی دہلی، 29 ستمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورے کے دوران امریکہ کی طرف سے تقریباً 300 نوادرات کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے آج کہا کہ جب ہمیں اپنے ورثے پر فخر ہوتا ہے تو دنیا بھی اس کا احترام کرتی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی ممالک ایسے نوادرات واپس کر رہے ہیں جو ہمارے ملکوں سے چلے گئے ہیں۔آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ‘من کی بات’ میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ، مسٹرمودی نے کہا، ”میرے دورے کے دوران، امریکی حکومت نے تقریباً 300 قدیم نوادرات ہندوستان کو واپس کیے ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے ڈیلاویئر میں اپنی نجی رہائش گاہ پر مجھے ان میں سے کچھ نوادرات دکھائے۔“انہوں نے کہا کہ واپس کیے گئے نوادرات ٹیراکوٹا، اسٹون، ہاتھی دانت، لکڑی، تانبے اور کانسی جیسے مواد سے بنے تھے ۔ ان میں سے کئی تو چار ہزار سال پرانے ہیں۔ چار ہزار سال سے قدیم نواردات سے لے کر 19ویں صدی تک کے نوادرات امریکہ نے واپس کیے ہیں، جن میں گلدان، دیوی- دیوتا¶ں کی ٹیراکوٹا تختیاں، جین تیرتھنکروں کے مجسموں کے علاوہ بھگوان بدھ اور بھگوان شری کرشن کے مجسمے بھی شامل ہیں۔ واپس کی گئی اشیاءمیں جانوروں کے بہت سے نواردات بھی ہیں۔ مردوں اور عورتوں کی تصویریں والی جموں و کشمیر کی ٹیراکوٹا ٹائل تو بہت ہی دلچسپ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان میں کانسے سے بنی بھگوان شری گنیش کی مورتیاں بھی ہیں جو جنوبی ہندوستان کی ہیں۔ واپس کی گئی اشیاءمیں بھگوان وشنو کی بڑی تعداد میں تصویریں بھی ہیں۔ یہ بنیادی طور پر شمالی اور جنوبی ہندوستان سے وابستہ ہیں۔ ان نوادرات کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے تفصیلات پر کتنی توجہ دی تھی۔ فن کے حوالے سے وہ حیرت انگیز فہم رکھتے تھے ۔ ان میں سے بہت سے نوادرات کو اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر لے جایا گیا تھا [؟] یہ سنگین جرم، ایک طرح سے یہ اپنے ورثے کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔مسٹر مودی نے کہا، "لیکن مجھے بہت خوشی ہے کہ پچھلی دہائی میں، اس طرح کے بہت سے نوادرات اور ہماری بہت سی قدیم وراثت، گھر واپس آئی ہیں۔ اس سمت میں آج ہندوستان کئی ممالک کے ساتھ مل کر کام بھی کر رہا ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ جب ہمیں اپنے ورثے پر فخر ہوتا ہے تو دنیا بھی اس کا احترام کرتی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے بہت سے ممالک ایسے نوادرات واپس دے رہے ہیں جو ہمارے یہاں سے چلے گئے ہیں۔













