جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے اور آج یعنی 9ستمبر کو نام واپس لینے کی آخری تاریخ ہے ۔امیدوار جن کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئے گئے ہیں آج دن کے تین بجے تک نام واپس لے سکتے ہیں اور جو کوئی اس وقت تک ریٹرننگ افسر کے دفتر سے رابط قایم نہیں کرے گا تو اسے باضابطہ انتخابی امیدوار قرار دیا جاے گا۔یہ الیکشن کمیشن کے رولز ہیں ۔25ستمبر کو دوسرے مرحلے میں چھ اضلاع کے 309امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی اوراس دوران 266امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئے گئے ۔ضلع سرینگر کے آٹھ اسمبلی حلقوں کے 99امیدواروں کے کاغذات درست قرار دئے گئے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 25ستمبر کو 26انتخابی حلقوں میں ووٹ ڈالے جاینگے اور ووٹنگ کا ٹایم جس کا اعلان الیکشن کمیشن نے پہلے ہی کررکھا ہے صبح 7بجے سے شام کے 6بجے تک ہوگا۔اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں قارئین کی توجہ الیکشن کمیشن کے اس عزم کی طرف مبذول کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ کمیشن جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کو پُرامن ،منصفانہ اور شفاف بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا ۔چنانچہ اس پورے عمل کو شفاف تو بنایا ہی گیا ہے ساتھ ہی امیدواروں ،ان کے حامیوں ،عام لوگوں ،اور ووٹنگ عملے کو بھر پور تحفظ فراہم کرنے کے لئے سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کیاگیا ہے ۔حساس پولنگ سٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اس کے علاوہ تین سو سے زیادہ فورسز کی کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں تاکہ کسی کو بھی انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کا موقعہ نہ مل سکے ۔اس وقت انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے آئین نے ہر اس امیدوار کو یہ حق دیا ہے کہ وہ سلجھے ہوئے انداز میں انتخابی مہم چلائے اور اپنا پروگرام یا پارٹی کا منشور عوام کے سامنے رکھ کر ان سے ووٹ مانگے ۔چنانچہ اس وقت جو پارٹیاں الیکشن کا حصہ بنی ہوئی ہیں ان سب پارٹیوں نے اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے رکھا ہے اور اسی کے نام پر ووٹ مانگے جارہے ہیں ۔6ستمبر بروز جمعہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اپنی پارٹی یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کا منشور جاری کیا ۔اب کی بار لوگ چاہتے ہیں کہ جو بھی پارٹی انتخابات میں فتح حاصل کرے گی یعنی اقتدار پر قبضہ کرے گی اسے چاہئے کہ ہر صورت میں اپنے منشور کو عملی جامہ پہنادے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ اب کی بار انتخابی امیدواروں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے اسلئے جو بھی پارٹی بر سر اقتدار آے گی اسے اپنے وعدوں پر کھرا اترنا ہوگا ۔لیکن لوگوں کو اس بات کی امیدہے کہ اب کی بار جیتنے والی پارٹی یا آزاد امیدوار ان وعدوں کی لاج رکھیگے جو الیکشن مہم کے دوران لوگوں سے کئے جاتے ہیں اور جن کی بنا پر لوگوں سے ووٹ مانگے جارہے ہیں۔اس وقت لوگوں کو چاہئے کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے ووٹوں کا استعمال کرنے کے بجاے سوچ سمجھ کر اپنے من پسند امیدواروں یا پارٹی کو ووٹ دیں تاکہ ایک تابناک مستقبل کے لئے راہیں متعین کی جاسکیں گی۔جموں کشمیر کے بے شمار مسایل ہیں اسلئے ان مسایل و مشکلات کا حل لازمی ہے تاکہ لوگ ایک خوشحال زندگی بسر کرسکیں ۔










