اس وقت وادی میں شادیوں کا سیزن جاری ہے اور لوگ دھوم دھام سے اپنے بچوں کی شادیاں رچارہے ہیں ۔اب شادیاں صرف اپنے نجی مکانوں تک ہی محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ لوگ اب میریج ہالوں میں جاکر اپنے عزیزوں کی شادیوں کی تقاریب منعقد کررہے ہیں ۔بیشتر میریج ہال سرینگر میونسپلٹی کی ملکیت ہیں جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے از خود میریج ہال تعمیر کئے ہیں جن سے اس سیزن میں ان کو اچھی خاصی آمدن وصول ہوتی ہے ۔ان میں وازہ وان کے لئے شیڈ الگ سے ہوتا ہے جبکہ کار پارکنگ کے لئے مخصوص جگہ ہوتی ہے ۔ان میں باتھ رومز کا اعلیٰ انتظام بھی ہوتا ہے ۔غرض شہریوں کو اپنے گھروں میں شادی بیاہ رچانے کے لئے جن چیزوں کے حصول کیلئے مشکلات درپیش ہوتی ہیں وہ چیزیں ان میریج ہالوں میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں ۔شہر میں جگہ کی کمی کے باعث یہ مریج ہال انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔خوشی اور غم دونوں صورتوں میں ان کا استعمال کیا جاتا ہے ۔بات شادیوں کی ہورہی ہے یعنی آج کل وادی اور خاص طور پر شہر میں شادی بیاہ کا سیزن چل رہا ہے لیکن ایک چیز ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہے کہ لوگ ان شادیوں پر روپے پیسہ پانی کی طرح بہادیتے ہیں جو ایک اچھی اور قابل تقلید روایت قرار نہیں دی جا سکتی ہے ۔شادی بیاہ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتاہے اور جب اس بارے میں کوئی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اس پر اتنا زیادہ خرچ کرنا زیب نہیں دیتاہے تو کچھ لوگ کہتے ہیں فلاں شخص کی بیٹی یا بیٹے کی شادی ہے اس پر خرچ نہیں کریگا تو کس پر خرچ کرے گا؟یعنی شادی دھوم دھام سے کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل پیش کی جاتی ہے جو ناقابل قبول ہوتی ہے ۔واقعی یہ خوشی کا مقام ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی کررہا ہے لیکن اگر تھوڑا سا کفایت شعاری کا مظاہر ہ کرے گا تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ہے ۔کیونکہ اس وقت لوگ اقتصادی طور پر کمزور ہوچکے ہیں اور ان حالات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں دل کھول کر خرچ کرنے کی روایات کو اگر بالاے طاق رکھا جاے گا تو اچھی بات ہے ۔یہاں صرف جہیز کے لینے دینے کا ہی سوال نہیں ہوتاہے بلکہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایک کشمیری شادی بیاہ پرنہ صرف عمر بھر کی جمع شدہ پونجی لٹاتا ہے بلکہ وہ قرض میں بھی ڈوب جاتاہے ۔کیا فایدہ ہے ایسی شادی کا جس میں کفایت شعاری کا مظاہرہ نہ کیا جاے ۔کیونکہ آج کل جہیز کو چھوڑ کر دوسری ایسی رسمیں تخلیق کی گئی ہیں کہ سر چکرا جاتا ہے اور ان پر اس قدر خرچ ہوتا ہے کہ حیرانگی ہوتی ہے ۔اوپر سے مہنگائی کی وجہ سے رہی سہی کسر نکل جاتی ہے ۔ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھوتی نظر آتی ہے اور جب دکاندار کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خریدار اس کے پاس آیا ہوا ہے اس کے ہاں شادی ہورہی ہے تو اسی حساب سے اس قدر ریٹ لگاتا ہے کہ پاﺅں تلے زمین کھسکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔اگر ہم ٹھنڈے دل سے اس پر سوچینگے تو شادیاں پریشانی کا باعث نہیں بن سکتیں بلکہ شادیا ں ہر گھر کے لئے خوشیوں اور مسرت کا پیغام لے کر آتیں لیکن کشمیری عوام نے شادیوں کو اس قدر پیچیدہ بنا کر رکھ دیا کہ صاحب مالک یعنی جس کے ہاں شادی ہوتی ہے پریشان ہوجاتا ہے کہ کتنا لاﺅں اور کتنا خرچ کروں ؟۔اسلئے لوگ اس معاملے میں عقل و شعور سے کام لیں اور شادی بیاہ کے موقعوں پر بھی کفایت شعاری کا مظاہرہ کرکے دوسروں کیلئے ایک مثال قایم کریں۔











