وادی بھر میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور بیشتر علاقوں میں نل خشک پڑے ہیں اور اگر صورتحال میں کوئی فوری تبدیلی نہیں لائی گئی تو اس سے امن و قانون کا مسلہ پیدا ہونے کے خدشات کو رد نہیں کیا جاسکتاہے ۔اس سلسلے میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے ایک رپورٹ شایع کی ہے جس میں اس نے وادی بھر میں اور خاص طور پر شہر میں پینے کے پانی کی قلت کا تذکرہ کیا ہے ۔محکمہ واٹر ورکس کے چیف انجنیر نے کہا ہے کہ وادی میں درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر لوگو ں کو پینے کا پانی حسب ضرورت استعمال کرنا چاہئے ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ شدہ واٹر کنکشنوں کو منقطع کرنے کے لئے مہم شروع کی جارہی ہے ۔اگر محکمے کی طرف سے ایسی کوئی کوشش کی جاے گی تو عام لوگ اس کا خیر مقدم کرینگے کیونکہ جن کے پاس غیر قانونی کنکشن ہیں ان کو مفت میں پانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان کی تعداد کتنی ہوگی غالباً یہی کوئی ایک دو فیصد تو کیا اسی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔اس سے قبل ایک انجنئیر صاحب نے پانی کی قلت کے لئے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ وہ باغات کی سنچائی ،گاڑیاں صاف کرنے اور دوسرے فروعی چیزوں کے لئے پینے کا پانی استعمال کررہے ہیں ۔اگر ایسا ہے تو محکمہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتاہے ۔ایسے لوگ ظاہر ہے کہ انسانیت کے دشمن کہلائینگے لیکن ان کو کیوں اب تک یہ غیر قانونی کام کرنے کی کھلی چھوٹ دی جاتی رہی ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب نل خشک ہوں توکس طرح کوئی پانی کا ناجائیز استعمال کرسکتاہے ؟لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایک دو فیصد ایسا کرتے ہونگے تو ان کے خلاف کیوں کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ۔جب ایک کنزیومر باقاعدگی سے فیس جمع کرواتا ہے تو پھر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے طلب کے مطابق پانی فراہم کیا جاے ۔اب ہر سال پانی کے فیس میں اضافہ ہورہا ہے لوگ اس کو بھی برداشت کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کا حصول ان کے لئے مشکل بنادیا گیا ہے ۔بہت سے سیاحتی مقامات میں جو پائپیں بچھائی گئی ہیں ان میں سے بیشتر لیک ہورہی ہیں اور ناقابل بیان حد تک صاف پانی ضایع ہورہا ہے اس کی طرف کیونکر توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔محکمہ سب سے پہلے سسٹم کو چست درست کرے ۔وادی کشمیر میں چاروں اور پانی ہی پانی ہے لیکن پھر بھی پانی کی قلت؟بعض علاقوں سے لوگوں نے اطلاع دی ہے کہ شدت کی اس گرمی میں ان کو دور دور سے پانی لانا پڑتا ہے ۔کسی بھی علاقے میں محکمے نے ٹینکر سروس شروع نہیں کی ہے ۔غرض موسم کے قہر میں لوگ بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔تعجب ہے ؟خبر رساں ایجنسی کے مطابق کل بھی شہر کے مختلف علاقوں میں مرد و زن سڑکون پر خالی مٹکے اور بالٹین لے کر نکلے اور محکمے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے پہلے کہ لااینڈ آرڈر کا مسلہ پیدا ہوجاے محکمے کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لئے حتی الامکان کوششیں کرنی چاہئے تاکہ لوگوں کو اس حوالے سے جن پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ دور ہوسکیں ۔












