جموں کشمیر میں مقامی ”شدت پسندوں “ کی تعداد محض 20سے 22رہ گئی ہے
خطے میں حالات کافی بہتر ہے، مجموعی طور پر کشمیر امسال گزشتہ پانچ برسوں میں پُر امن رہا ۔ پولیس سربراہ
سرینگر//پولیس سربراہ آر آر سوائن نے کہا ہے کہ جمو ں کشمیر میں مقامی ”شدت پسندوں“ کی تعداد بہت ہی کم رہ گئی ہے البتہ غیر مقامی دہشت گرد اب ان کےلئے چلینج ہے جو یہاں پر خو ف و دہشت پھیلانے کی غرض سے غیر مسلح افراد کو نشانہ بناتے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں لانچنگ پیڈوں پر اب صرف 60سے 70دہشت گرد سرگرم ہے تاہم فوج اور پولیس کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کےلئے بالکل تیار ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پولیس سربراہ آر آر سوائن نے کہا ہے کہ جموں کشمیرمیں حالات کافی بہتر ہے اور اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر وادی کشمیر امسال بھی پُر امن رہا ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ اب مقامی دہشت گردوں کی تعداد گنتی کی رہ گئی ہے البتہ غیر مقامی دہشت گرد اب یہاں پر حالات بگاڑنے اور لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ آر آر سوائن نے کہا کہ جموں کشمیر میں عسکریت پسندی کی توجہ "مقامی عسکریت پسندی سے غیر ملکی عسکریت پسندی” کی طرف منتقل ہو گئی ہے کیونکہ مقامی ‘عسکریت پسندوں’ کی تعداد بہت کم ہے۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) نے تاہم کہا کہ غیر ملکی دہشت گردی "ایک چیلنج کے طور پر ابھر رہی ہے” اس حقیقت کے پیش نظر کہ یہ دہشت گرد خوف پیدا کرنے اور شہریوں کو مارنے کے لیے "زہریلے اور نشہ آور نظریے” کے ساتھ دراندازی کرتے ہیں۔جموں میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ تقریباً چار پانچ سال پہلے مقامی دہشت گردوں کی تعداد 150 سے 200 کے درمیان تھی جو کافی حد تک کم ہو کر صرف 20-22 رہ گئی ہے۔ اس وقت سیکورٹی کے چیلنجز بہت زیادہ بیرونی ہیں۔ اگرچہ پہلے بھی وہاں غیر ملکی عنصر موجود تھا،














