عالمی سطح پر ویٹ لینڈ کے تحفظ کا دن منایا گیا ۔یہ صرف جموں کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اس دن کے منانے کے مقصد پر روشنی ڈالی جاتی ہے ۔اس کی اہمیت اور افادیت سے جانکاری دی جاتی ہے اور ماہرین عام لوگوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس حوالے سے مفید اور قابل قدر مشورے دیتے ہیں جن پر عمل کرنے سے ویٹ لینڈز کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے ۔جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہاں ویٹ لینڈز کا زندہ جاوید ہونے کے بارے میں تصور تک نہیں کیا جاسکتاہے کیونکہ جہاں خود غرض افراد نے ان پر ناجائیز قبضہ کیا ہے تو دوسری جانب حکومت کے بارے میں بھی کہا جاسکتاہے کہ اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں اور گئیں کسی نے بھی ویٹ لینڈز کو بچانے اور انہیں مزید نکھارنے کی طرف کبھی کوئی توجہ نہیں دی چنانچہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ ویٹ لینڈ سکڑتے گئے اور آج کل گنتی کے ویٹ لینڈ موجود ہیں ان کی ہیت بگڑی ہوئی ہے ۔اگر ان کی ہیت ٹھیک ہوتی تو گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ہے لیکن ان کی شکل و صورت ہر گذرتے دن مسخ ہوتی جارہی ہے ۔اس سال سرکاری طور پر دعوی کیا گیا کہ یہاں اب تک آٹھ سے دس لاکھ تک مہمان پرندے آئے لیکن اگر ویٹ لینڈز کی حالت بہتر ہوتی تو اس سے بہت زیادہ مہمان پرندوں کی آمد متوقع تھی ۔ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ویٹ لینڈز کیسے بنتے ہیں ؟یہ کس طرح وجود میں آتے ہیں تو اس کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بالائی علاقوں میں آبی ذخائیر کا وجود انسانی مداخلت کے بغیر قایم و دایم رہتا ہے تب ان کا پانی نچلے علاقوں میں پہنچ جاتا تھا تب ویٹ لینڈز کا قیام عمل میں آتا ہے ۔لیکن جب بالائی علاقوں میں آبی ذخائیر انسانی مداخلت کی وجہ سے سکڑ جاتے ہیں تو لازمی طور پر ویٹ لینڈز پر ان کا براہ راست اثر پڑ تاہے ۔ایک حالیہ سروے کے مطابق بالائی علاقوں میں تقریباًایک ہزار سے زیادہ آبی ذخائیر خشک ہوگئے ہیں ۔جبکہ دو ہزار سے زیادہ ایسے بھی آبی ذخائیر وہاں موجود تھے جن کا اس وقت کوئی نام و نشان موجود نہیں ۔سوچنے کی بات ہے جب ایسی صورتحال ہو تو ویٹ لینڈ کا وجود کیسے برقرار رہ سکتاہے ۔اس سارے عمل میں عام آدمی کی خود غرضی اور حکومت کی غفلت شعاری شامل ہے جس کی بنا پر ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔یہاں جو لاکھوں مہمان پرندے آتے ہیں وہ ایکو سسٹم کیلئے کتنے ضروری ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتاہے لیکن اس کی کسی کو فکر نہیں ۔ویٹ لینڈز پر ناجائیز قبضہ کرنے کی اطلاعات برابر موصول ہورہی ہے اور مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار ہورہا ہے ان کو کوئی نہیں پوچھتاہے ۔ماہرین کے مطابق اگر حالات میں کوئی ہنگامی تبدیلی نہیں لائی گئی یعنی ویٹ لینڈز اور آبی ذخائیر کو تحفظ دینے کے لئے اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو ایک وقت ایسا بھی آئیگا جب یہاں ایک بھی پرندہ نہیں آے گا اور ہمارا یہاں کا ایکو سسٹم تباہ و برباد ہوکر عام لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتاہے ۔












