مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ یہاں ایل جی کی حکومت جموں کشمیر میں دستکاری صنعت کو فروغ دینے اور ہنر مندوں کو بہتر زندگی گذارنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہیں ۔اس سے قبل جیسا کہ ان ہی کالموں میں قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی کہ وادی میں دستکاروں ،ہنر مندوں اور ماہر کاریگروں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ہر میدان میں یہاں کے لوگوں نے وقت وقت پر اپنے ہنر اور فن کا کمال دکھا کر داد تحسین حاصل کی ۔یعنی کشمیری ہزمندوں کو نہ صرف سرکاری طور پر اعزازات سے نوازا گیا بلکہ مقامی سطح پر بھی ان کی کافی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیری ووستہ کاروں اور دوسرے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں بہتر زندگی گذارنے اور ان کی مالی پوزیشن اچھی بنانے کیلئے پی ایم وشوا کرما سکیم رایج کی اور رایج کرتے ہی اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے انتظامیہ کو خصوصی ہدایات بھی دیں ۔سرکاری ذرایع نے بتایا کہ اب تک 295معاملات میں منظوری دی گئی جبکہ دوسرے معاملات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔اس سکیم کے تحت دستکاروں کو مالی مراعات کے علاوہ ٹریننگ بھی دی جاے گی جبکہ ایک کٹ بھی فراہم کیا جاے گا۔سرکار کے اس اقدام کو ہر سطح پر سراہا جارہا ہے ۔کشمیری کاریگروں کی زبوں حالی کو دور کرنے اور انہیں مالی استحکام فراہم کرنے کیلئے کچھ عرصہ قبل لکھنوکے ٹریڈ ایکسپو میں کشمیر کی منفرد دستکاری ااور روایتی خصوصی مصنوعات کی نمایش کا اہتمام کیا گیا ۔اس نمایش میں جو لوگ آئے انہوں نے کشمیری مصنوعات کو بے حد پسند کیا ۔اس میں کافی دلچسپی دکھائی اور خریداری بھی کی گئی۔یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ کشمیری مصنوعات اعلیٰ کاریگری ،ہنرمندی اور ذہانت کا نمونہ ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کشمیری سٹال پر نظر آئے اور دوسرے سٹالوں کے برعکس کشمیری سٹال پر بے پناہ رش نظر آیا ۔اتُر پردیش کے لکھنو جیسے خوبصورت شہر میں ٹریڈ ایکسپو کے منتظمین نے کہا کہ کشمیری پویلین خریداروں اور مقامی صارفین کے لئے ایک مرکزی کشش کے طور پر ابھر ا۔جموں کشمیر کے جتنے بھی سٹال ہیں ان پر اونی کپڑے ،خشک میوہ جات ،کشمیر کی کڑھائی والی ملبوسات ،شال دوشالے ،وڈکارونگ وغیرہ جیسی دستکاری مصنوعات نے وہاں آنے والے لوگوں کے دلوں کو اپنی جانب کھینچ لیا۔نمایش دیکھنے والوں نے وہاں زبردست ردعمل اور خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کو آج پہلی مرتبہ اس بات کااحساس ہوا کہ ہمارے ملک میں کشمیری کاریگراس قدر ہنرمند ہونگے کہ ان کی مصنوعات دیکھتے ہی دل موہ لیتے ہیں۔حال ہی میں صفاکدل کے ایک باکمال ہنر مند ،کاریگر اور استاد غلام نبی ڈار کو جو پدم شری کا ایوارڈ ملا ہے وہ اس کو اس کی ہنر مندی کی وجہ سے ملا ہے ۔اس کی دستکاری مصنوعات یعنی وڈ کارونگ کو اس قدر سراہا گیا کہ اسے ملک کے سب سے اونچے اعزاز پدم شری کے لئے منتخب کیا گیا ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کو بھی کشمیری دستکاروں اور دستکاری مصنوعات کے فروغ کے لئے ہر وہ اقدام اٹھانا چاہئے جس سے دستکاروں کو مالی استحکام حاصل ہوسکے اور دستکاری مصنوعات یعنی کشمیری عوام کی کاریگری کے نمونوں کو ملک اور بیرون ملک برآمد کرنے کے لئے ہنگامی نوعیت کے اقدمات اٹھانے چاہئے ۔









