منشیات اور دہشت گردی کے کیس میں ملوث ملزمان کی تعداد 18ہوگئی
سرینگر/ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے )نے منگل کو دہشت گردی کی فنڈنگ سے متعلق ایک کیس میں مزید 06 ملزمان کے خلاف چوتھی ضمنی چارج شیٹ داخل کی، جس سے ملزمان کی کل تعداد 18 ہوگئی۔محمد شریف چیچی، فاروق احمد جنگل، اور سیف دین جنہیں ایس آئی اے نے حال ہی میں گرفتار کیا تھا ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967، نارکوٹک ڈرگ سائیکو ٹراپک سبسٹنس ایکٹ اور مجرمانہ سازش، فنڈز اکٹھا کرنے اور کالعدم عسکری تنظیم حزب المجادہدین کے لئے کام کرنے سے متعلق انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ اس دوران کارروائی میں ایس آئی اے جموں نے دس لاکھ روپے کی رقم ضبط کی ہے اور بینک کھاتوں میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ کو منجمد کردیا ہے جو کہ پی او کے سے اسمگل کی گئی منشیات سے حاصل ہونے والی رقم تھی۔ دیگر 3 ملزمان حمید اللہ کھوڑو، فاروق احمد شال اور جاوید احمد چالکو، تمام حزب المجاہدین سے وابستہ ہیں جو اپنی گرفتاری سے بچ رہے ہیں اور اس وقت پاکستان میں ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان اوڑی اور ہتھ لنگو بارہمولہ میں پاکستانی زیر قبضہ کشمیر سے ہیروئن کی اسمگلنگ اور جموں میں ہیروئن کی مزید نقل و حمل اور فروخت کرنے میں ملوث تھے ۔اس طرح سے کل ملزمان میں سے سیکشن 82/83 کے تحت ان کی جائیداد قرق کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس سے دہشت گردی کے پیسے کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کی بنائی گئی جائیداد پر بڑا دھچکا لگے گا۔بیان کے مطابق اس کیس میں مزید ملزمان میں فاروق احمد نائیکو، محمد رفیق نجار، مبشر مشتاق ففو ، فاروق احمد شاہ، حمید اللہ ، طارق احمد ملہ، جاوید چالکو وغیرہ شامل ہیں جو پاکستان سے جموں کشمیر میں منشیات سمگل کرنے کی سازش میں ملوث ہے ۔













