چند دنوں کی بارشوں نے جموں کشمیر میں کہرام مچا کے رکھ دیا ۔اس سے نہ صرف مالی نقصان ہوا ہے بلکہ تقریباً ایک درجن جانیں بھی چلی گئیں ۔نقصان کا اندازہ لگانے میں سرکاری ادارے جُٹے ہوئے ہیں ۔کل یعنی سوموار 10جولائی کو سرینگر جموں شاہراہ مسلسل بند رہی اور اس پر ٹریفک نہیں چل سکا ۔اگرچہ شاہراہ پر درماندہ گاڑیاں منزل مقصود تک جانے کے لئے آہستہ آہستہ چلنے لگی تھیں لیکن کل بھی حساس مقامات پر پسیاں اور مٹی کے بھاری تودے اور چٹانیں گرنے کی وجہ سے گاڑیوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانا ناممکن بن کر رہ گیا ۔رام بن اور ریاسی میں تو سڑکیں نہ صرف دھنس گئیں بلکہ کئی چھوٹے چھوٹے پلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔کئی ہسپتالوں میں پانی گھس آیا ہے اور کئی بازار بھی پانی کے نیچے آگئے ۔شاہراہ پر کل یعنی سوموار کو بھی سینکڑوں گاڑیاں درماندہ رہیں ان میں سوار مسافر شدید عذاب میں مبتلا ہیں ۔خاص طور پر وہ لوگ پریشان ہیں جن کے ساتھ بچے سفر کررہے ہیں۔مغل روڈ کا بھی یہی حال ہے ۔سال 2014میں کئی دنوں تک موسلادھار بارشوں کے بعد ہی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ۔اس کے بعد اس وقت کی حکومت نے کولکتہ کی ایک فرم کو جہلم کی ڈرجنگ کا ٹھیکہ دیاتھا کیونکہ اس وقت ماہرین نے کہا تھا کہ چونکہ جہلم کی کئی دہائیوں سے صفائی نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجے میں اس کی تہہ پر کوڑا کرکٹ جو پلوں سے دریا میں ڈالا جاتا تھا کے ڈھیر جمع ہوگئے تھے اس کے علاوہ ریت کی موٹی موٹی تہیں اس کے نیچے جمع ہوگئی تھیں اسلئے اس کی ڈرجنگ ناگزیر بن گئی تھی ۔کولکتہ کی اس فرم نے کام شروع کردیا ۔اس دوران نورباغ قمر واری کے دورے کے دوران ماہرین نے پایا کہ کولکتہ کی جس فرم کو ڈرجنگ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا اس نے اپنا کام اطمینان بخش طریقے پر نہیں کیا جس پر اسی وقت حکومت نے اس فرم کا ٹینڈر منسوخ کیا اور مقامی ٹھیکیدار کو جہلم کی ڈرجنگ کا ٹینڈر دیا گیا ۔اب اس مقامی ٹھیکیدار نے کیسا کام کیا اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے لیکن تعجب کا مقام ہے کہ گذشتہ دنوں کی بارشوں نے جہلم اور اس کے معاون ندی نالوں میں طوفان مچادیا ۔پانی کی سطح اس قدر اونچی ہوگئی جس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا ۔یہ کسی عام شہری کا نہیں بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہلم اور اس کے معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح اس قدر اونچی نہیں ہونی چاہئے تھی جس قدر ہوگئی ہے ۔اسلئے اس بارے میں ایک بار پھر ماہرین سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد حکومت کو چاہئے کہ جہلم اور اس کی معاون ندیوں اور نالوں کی ڈرجنگ شروع کی جاے تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ پانی سمونے کی جگہ پیدا ہوجاے اور معمولی بارشوں سے اس میں طغیانی آنے کا خطرہ پیدا نہ ہوسکے ۔اس کے ساتھ ہی فلڈ چینلوں کی بھی ڈرجنگ لازمی ہے کیونکہ اگر اس وقت ایسا نہین کیا جاے گا تو ایک وقت ایسا بھی آے گا کہ پانی سیدھا بستیوں میں گھس کر تباہی مچاسکتاہے ۔اسلئے حکومت کو عوامی حلقوں کی اس تجویز پر غور کرنا چاہئے ۔










