عید قربان آرہی ہے اور ابھی سے لوگوں نے تیاریاں شروع کی ہیں ۔اس عید کو اسلئے عید قربان کہتے ہیں کیونکہ اس عید پر مسلمان قربانیاں پیش کرتے ہیں یہ ابراہیمی سنت ہے جس پر مسلمان عمل کرتے ہیں ۔یہی اس عید کا فلسفہ ہے یعنی انسان کو حق و انصاف کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔یہ عید ہمیں اپنے ان بھائی بہنوں ،ہمسائیوں دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد و اعانت کرنے کا درس دیتی ہے جو مالی لحاظ سے تنگ دست ہونگے جبکہ بیواﺅں ،مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنا ہے دراصل انسانیت کی معراج ہے ۔انسان اسی میں اپنی خوشی محسوس کرتا ہے جب وہ ضرورتمندوں کی بھر پور مدد کرے ۔اس عید پر سب سے پہلے لوگ قربانی کے جانور تلاش کرتے رہتے ہیں اور اسی جگہ قربانی کے جانور خریدتے ہیں جہاں انہیں دوسری جگہوں کے مقابلے میں زیادہ قیمتیں ادا نہ کرنا نہ پڑیں ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سرکاری طور پر ابھی یہ کالم لکھنے تک قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مقرر نہیں کی گئی ہیں ۔نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کوئی ایک قیمت بتاتا ہے جبکہ کوئی دوسرادوسری قیمتیں بتاکر لوگوں کی مجبوریوں کا ناجائیز فایدہ اٹھاتا ہے ۔عوامی حلقے یہ جاننے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ کیا گوشت کو ڈی کنٹرول کرنے کا مطلب اس کا کاروبار کرنے والوں کو لوگوں کو من مانے قیمتوں پر گوشت کو فروخت کرنے کی کھلی چھوٹ دینا ہے ۔کل ہی لیفٹننٹ گورنر نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں عیدالاضحی کے سلسلے میں کئے جانے والے انتظامات اور تیاریوں کے بارے میں افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ان مقامات جہاں عید نمازوں کے سلسلے میں بڑے بڑے اجتماعات ہونے والے ہیں میں پینے کے پانی ، بجلی اور صحت و صفائی کے حوالے سے انتظامات کریں تاکہ نمازیوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچ سکے ۔انہوں نے اس سلسلے میں افسروں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے فرایض کی انجام دہی سے کوتاہی نہ برتیں ۔اس دوران ہر طرف سے لوگ یہی شکایت کرتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مقرر نہ کرنے سے وہ من مانی قیمتیں طلب کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں ۔ان لوگوں کو چونکہ اب پولیس وغیرہ یا کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی ڈر وغیرہ نہیں ہے اسلئے وہ کوئی بھی قیمت طلب کرنے سے نہیں ہچکچاتے ہیں نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ بیچ میں پسے جارہے ہیں لوگوں نے یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے کے لئے اب قربانی کے جانور خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔اس کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑنے لگا ہے اور عید پر بازاروں میں ہر چیز مہنگے داموں بکنے لگی ہے ۔پھر بھی لوگ یہ سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ اگر کوئی ساگ سبزی کے لئے ایک دو روپے زیادہ طلب کرتا ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے یعنی اس کے خلاف پولیس چالان درج کرتی ہے لیکن اتنا بڑا مسلہ یعنی گوشت کی قیمتوں کا مسلہ حل کرنے کے بجاے اس کی قیمتوں سے حکومت نے جس طرح لا تعلقی اختیار کی ہے وہ عام لوگوں کے لئے واقعی باعث پریشانی ہے ۔جہاں تک دوسری چیزوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اب اونچے داموں بکنے لگے ہیں اور سرکار خاموش تماشائی بن کر رہ گئی ہے ۔










