Daily Aftab
22 اکتوبر ,2026
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار
  • Edition
    • اردو
    • English
Daily Aftab
ADVERTISEMENT

بحیرہ روم: غضب ناک لہریں ہر سال ہزاروں تارکینِ وطن نگل جاتی ہیں

by Online Desk
19 جون 2023
A A
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp
ADVERTISEMENT

بدھ 14 جون کو تارکین وطن سے بھری ہوئی ایک بڑی کشتی یونان کے قریب بحیرہ روم میں ڈوبنے اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے اداروں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سمندر میں ڈوبنے والوں کی تلاش اور ان کی جانیں بچانے کو ضروری قرار دیتے ہوئے اموات روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق منگل کے روز بحیرہ روم میں تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی کی نشاندہی ہونے کے بعد یونان کے کوسٹل گارڈز نے مواصلاتی نظام اور لاو¿ڈ اسپیکر کے ذریعے کشتی سےرابطہ کرنے اور انہیں مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ بدھ کی صبح جب کشتی یونان کے جزیرہ نما پیلوپونس سے تقریباً 75 کلومیٹر دور تھی، الٹنے کے بعد ڈوب گئی۔اس دوران ساحلی محافظ مسلسل اس کا تعاقب کر رہے تھے۔کشتی پر سوار افراد کی جانیں بچانے کے لیے کوسٹل گارڈز کے چھ جہازوں، بحریہ کے ایک فریگیٹ، ایک ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے، فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر، کئی نجی جہازوں اور فرنٹیکس کے ایک ڈرون نے حصہ لیا۔ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں 104 افراد کو ڈوبنے سے بچالیا گیا اور 79 نعشیں نکالی گئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کشتی الٹنے سے قبل اس کی بجلی چلی گئی تھی۔ تاریکی کی وجہ سے مسافروں میں خوف و ہراس اور بے چینی پھیلی۔ لوگوں کی دھکم پیل اور بھاگ دوڑ کے باعث کشتی کا توازن بگڑنے سے وہ الٹ کر ڈوب گئی۔ یونان کی حکومت نے سانحہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔کشتی کا کپتان اسے اٹلی لے جانا چاہتا تھا، کیونکہ تارکین وطن سے متعلق یونان کے سخت قوانین کی وجہ سےبحیرہ روم کے راستے سفر کرنے والے اٹلی جانے کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں سے تارکین وطن زیادہ آسانی کے ساتھ دیگر یورپی ممالک میں جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن کی کشتی لیبیا کے ساحلی علاقے سے روانہ ہوئی تھی۔ یہ بنیادی طور پر ماہی گیری کا ایک ٹرالا تھا جسے انسانی اسمگلر تارکین وطن کو یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔کشتی پر سوار افراد کی تعداد کا صحیح علم نہیں ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ لیبیا سے اٹلی جانے والے اس ٹرالر کے ساتھ تقریباً پانچ سو افراد بھی ڈوب گئے۔ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کا اندازہ ہے کہ کشتی میں 750 افراد سوار تھے۔یہ سمندری حادثہ 2015 کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز واقعہ ہے۔ یو این مائیگریشن ایجنسی کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ نے ٹویٹ میں لیبیا کے ساحل پر الٹنے والے بحری جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہےکہ یہ اپریل 2015 کے اٹلی کے راستے میں ہونے والے المناک بحری جہاز کے تباہ ہونے کے بعد اب تک کا دوسرا سب سے مہلک حادثہ ہو سکتا ہے،جس میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً 800 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔غیرقانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے یورپ نے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ بحیرہ روم کے انتہائی پرخطر راستے سے یورپ جانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ زمینی سرحدوں کو عبور کرنا انتہائی دشوار بن چکا ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014 سے اب تک بحیرہ روم میں لاپتہ ہونے والے تارکین وطن کی تعداد 27 ہزار سے زیادہ ہے۔اٹلی نے رواں سال اب تک 55 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو رجسٹر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں اکثریت آئیوری کوسٹ، مصر، گنی، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والوں کی ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی سالانہ تعداد ایک لاکھ 20 ہزار کے لگ بھگ ہے۔یورپی ملکوں میں پناہ گزینوں کے مسئلے پراختلاف پایا جاتا ہے۔ بحیرہ روم کے ممالک یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں غیرقانونی تارکین وطن کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تارکین وطن کی اکثریت وہاں پہنچنے کے بعد جرمنی، برطانیہ اور دیگر ملکوں میں جانے کی خواہش مند ہوتی ہے لیکن مشرقی یورپی ممالک تارکین وطن کی دیکھ بھال کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتے ہیں۔انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے لیبیاکے ساحلی محافظ کو مدد فراہم کر رہی ہے جو لیبیا کے ساحلوں پر پہنچنے والے تارکین وطن کو تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بناتے ہیں۔یورپی یونین اور رکن ممالک نے شمالی افریقی ممالک کے ساتھ اپنے سرحدی کنٹرول کو بہتر بنانے اور تارکین وطن کی کشتیوں کو یورپ پہنچنے سے روکنے کے لیے معاہدے بھی کیے ہیں۔ لیکن غریب ممالک میں زندگی گزارنے کے حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ تارکین وطن اچھے دنوں کی آس میں ہر خطرہ مول لینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

Like this:

Like Loading…

یہ بھی پڑھیے

وقت کا صحیح استعمال

(صاف ہوا کے عالمی دن پر فضا کو آلودگی سے بچانے کا عزم)

(سیلاب کی روک تھام کیلئے ندی نالوں کی ڈریجنگ)

اسی بارے میں

وقت کا صحیح استعمال
ادارتی

وقت کا صحیح استعمال

17 اکتوبر 2026
(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(صاف ہوا کے عالمی دن پر فضا کو آلودگی سے بچانے کا عزم)

11 ستمبر 2025
بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 205 پہنچ گئی
ادارتی

(سیلاب کی روک تھام کیلئے ندی نالوں کی ڈریجنگ)

25 اگست 2025
کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے سیلابی ریلے نے تباہی مچادی
ادارتی

(سانحہ کشتواڑ ،ہر آنکھ اشکبار ہر دل اُداس)

16 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

15 اگست 2025
مچھلیوں کی موت ،معاملہ تحقیقات طلب
ادارتی

(آزادی کا جشن اور ہماری ذمہ داریاں)

14 اگست 2025
(موسم کا قہر ،متاثرین کی فوری باز آباد کاری )
ادارتی

(یوم آزادی ،ہر گھر ترنگا اور ترنگا یاترا)

11 اگست 2025
کچرے سے پاک ہندوستان کیلئے عوامی تحریک
ادارتی

(سیاحت کے حوالے سے اقتصادی جائیزہ )

31 جولائی 2025
برف باری کے ساتھ ہی سیاحتی مقام گلمرگ میں سیاحوں کا غیر معمولی رش
ادارتی

(بند پڑے صحت افزا مقامات دوبارہ کھولنے کی ضرورت)

29 جولائی 2025
Next Post
ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام نے ڈسٹرکٹ گڈ گورننس اِنڈکس کا جائزہ لیا

ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام نے ڈسٹرکٹ گڈ گورننس اِنڈکس کا جائزہ لیا

اہم خبریں

بلیک مرر سیریز (Black Mirror)

دھونس، دباو ، ہراسانی اور مذہبی نابرابری جمہوری و آئینی اصولوں کے منافی/ڈاکٹر فاروق

سال 2022میںبٹہ مالو میں خاتون کا قتل معاملہ

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بحیرہ روم: غضب ناک لہریں ہر سال ہزاروں تارکینِ وطن نگل جاتی ہیں
ادارتی

بحیرہ روم: غضب ناک لہریں ہر سال ہزاروں تارکینِ وطن نگل جاتی ہیں

19 جون 2023
بلیک مرر سیریز (Black Mirror)
تازہ ترین خبریں

بلیک مرر سیریز (Black Mirror)

17 اکتوبر 2026
مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ
ادارتی

مرحوم ثناءاللہ بٹ صحافت کے اُفق پر ایک چمکتا ہوا تارہ

25 نومبر 2021
شاہ رُخ خان نے اپنی نئی فلی ”ڈنکی “ کی شوٹنگ سونہ مرگ اور دیگر جگہوں پر شروع کی
تفریح

شاہ رخ خان  کی  نئی  فلم کی شوٹنگ نے  کشمیر میںمعاشی فروغ، سیاحت کے لیے نئی امیدیں جگائیں

27 اپریل 2023
ADVERTISEMENT
  • ہمارے بارے میں
  • اشتہار دینا
  • ہم سے رابطہ کریں

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

No Result
View All Result
  • ہوم پیج
  • تازہ خبر
  • جموں و کشمیر
  • قومی
  • بین اقوامی
  • تعلیم
  • ادارتی
  • کاروبار
  • کھیل
  • تفریح
  • صحت
  • آج کا اخبار

©2021 ڈیلی آفتاب | ڈیلی آفتاب بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔

ہم کوکیز کو مواد اور اشتہارات کو ذاتی بنانے ، سوشل میڈیا کی خصوصیات فراہم کرنے اور اپنے ٹریفک کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Discover more from Daily Aftab

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

%d