اس سے پہلے ان ہی کالموں میں اس بات کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروائی گئی کہ حادثات کی روک تھام کے لئے اگر پیشگی اقدامات کئے جائیں تو اس سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے ۔لیکن حکام کی آنکھ تب کھلتی ہے جب کوئی نہ کوئی واردات پیش آتی ہے ۔گذشتہ دنوں امرتسر سے کٹرہ آنے والی یاتری بس کو حادثہ پیش آیا اور جاے واردات پر ہی دس یاتری از جان ہوئے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حادثہ کس طرح پیش آیا اور اس کی کیا وجوہات تھیں ؟۔اسی طرح حکومت کی طرف سے کل ایک ایڈوائیزری جاری کردی گئی جس میں شکارا والوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی کشتیوں میں لازمی طور پر لایف سیونگ جیکٹس دستیاب رکھیں تاکہ کسی بھی صورتحال کا آسانی سے مقابلہ کیا جاسکے ۔یہ ایڈوائیزری اس وقت جاری کردی گئی جب گذشتہ دنوں شدید بادو باراں کی وجہ سے سیاحوں کو لے کر ڈل کی سیر پر جانے والی کشتیاں طوفان میں پھنس کررہ گئیں اور اگر اس وقت پولیس کی بچاﺅ پارٹیاں جاے واردات پر نہیں پہنچ پاتیں تو جانی نقصان ہوسکتاتھا لیکن پولیس نے موٹر بوٹس اور لایف سیونگ جیکٹس کی مدد سے سب کے سب سیاحوں کو بچالیا اور انہیں کنارے پر بحفاظت لے آے ۔پولیس نے اس وقت کمال جرات کا مظاہرہ کیا جس پر لوگوں نے پولیس کے اقدام کی سراہناکی ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طوفانی باد و باراں ہر سال کا معمول ہیں ۔یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن حکام کو اسی وقت بچاﺅ اقدامات یاد آے جب اکیس سیاحوں کو ڈوبنے سے بچایا گیا ۔اگر پولیس بروقت نہیں پہنچ پاتی تو کچھ بھی ہوسکتاتھا اسلئے متعلقہ حکام کو اس طرح کے اقدامات کا پہلے سے ہی انتظام کرنا چاہئے تھا بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب متعلقہ حکام کو شکارا والوں پر زور دینا چاہئے کہ وہ جلد از جلد لایف سیونگ جیکٹس خریدیں تاکہ ڈل کی سیر کرنے والوں کے ساتھ ساتھ خود کشتی چلانے والے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہر جان قیمتی ہوتی ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امرتسر سے کٹرہ آنے والی گاڑی کو کیونکر حادثہ پیش آیا سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس میں کس طرح اوور لوڈنگ کی گئی تھی ۔دس یاتری تو جاے واردات پر ہی لقمہ اجل بن گئے جبکہ باقی 57ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس گاڑی میں 67افراد کے بیٹھنے کی گنجایش تھی یا نہیں ایسا لگتا ہے کہ اس میں اوور لوڈنگ تھی اس کے علاوہ ڈرائیور حد سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جارہاتھا اسلئے وہ گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی لڑھک کر نیچے گرگئی ۔متعلقہ حکام کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کہیں گاڑی کنڈم تو نہیں تھی ۔کیا ڈرائیور کے پاس لائیسنس اور ضروری دستاویزات تھے یا نہیں؟لانگ روٹ پر جو گاڑیاں چلتی ہیں ان کی فٹنس کوسب سے پہلے چیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ محکمے کو اس کی کوئی پروا نہیں ۔جموں یا سرینگر شہر میں چلنے والی گاڑیوں کی محکمے کے دس دس بیس بیس اہلکار چکنگ کرتے ہیں لیکن جن گاڑیوں کی لازمی چکنگ کرنی ہوتی ہے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔عام لوگوں کا ماننا ہے کہ سب سے پہلے حادثات کے لئے متعلقہ محکمے کے اہلکاروں سے تحقیقات کی شروعات کرنی چاہئے کیونکہ اگر ڈرائیور پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے تو متعلقہ محکمے کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتاہے ۔لانگ روٹس پر ڈرائیوروں کی من مانیاں کوئی نہیں بات نہیں لیکن جب محکمے کی طرف سے ان پر کوئی نظر گزر نہیں رکھی جاتی تو حادثا ت رونما ہوتے رہتے ہیں۔










