جی 20اجلاس کے ٹوارزم ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں ایک سو سے زیادہ غیر ملکی اور ملکی مندوبین کی شرکت کے امکانات کے پیش نظر اجلاس کی کامیابی کے لئے حکومت کی طرف سے ہر طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس اجلاس کو تاریخی نوعیت کا بنانے کیلئے سرکاری طور پر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیاجارہا ہے ۔غیر ملکی مندوبین کے لئے خاص طور پر کانفرنس ہال کی تزئین کاری کا سلسلہ برابر جاری ہے اور اس کے علاوہ ان مقامات جہاں ان کی سیر کا پروگرام بنایا گیا ہے کو بھی جاذب نظر بنایاجارہا ہے ۔جن میں خاص طور پر جھیل ڈل شامل ہے ۔مندوبین کیلئے جھیل ڈل کی سیر کے علاوہ مغل باغات کی سیر بھی شامل ہے ۔مغل باغات کی بھی صفائی ستھرائی کا کام جاری ہے اور حکومت کی کوشش یہ ہے کہ مندوبین چاہے وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی ان کو ہر طرح کی سیر و تفریح کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔گلمرگ کو بھی جاذب نظر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے ۔اس بارے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں غیر ملکی ڈیلی گیٹس سے ملنے کا موقعہ ملے گاتو وہ انہین کشمیر کے بارے میں بتائینگے اور ان پر زور دینگے کہ وہ اس کانفرنس کے دوران جموں کشمیر میں سیاحت کے حوالے سے لئے جانے والے فیصلوں کو عملانے کیلئے اقدامات کریںتاکہ اس پہاڑی خطے کے لوگوں کی معیشت مستحکم ہوسکے ۔اس بات کا حکومت نے پہلے ہی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ کشمیر میں جی 20اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ اسی بات کو مدنظر کیا گیا تاکہ یہاں اس سیکٹر کو مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جاسکے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بحیثیت صدر جی 20گروپ اس بات کا فیصلہ پہلے ہی لیاتھا کہ اس گروپ کے ٹوارزم ورکنگ گروپ کا اجلاس کس جگہ کیاجانا چاہئے تاکہ اس خطے کے ٹوارزم سیکٹر میں ایک نئی روح پھونکی جاسکے اور اس سے وابستہ لوگوں کی معاشی اور اقتصادی حالت میں سدھار لایا جاسکے ۔اس لحاظ سے یہ کانفرنس کشمیری عوام کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جاسکتی ہے ۔وادی میں صحت افزا مقامات کی سیر کے دوران غیر ملکی مندوبین ہوسکتا ہے کہ براہ راست ان کشمیریوں کے ساتھ ملاقات کرینگے جن کا تعلق سیاحت سیکٹر سے ہوسکتاہے ۔ان میں ایک تو ہوٹل مالکان ،ٹرانسپورٹرس ،گھوڑے بان اور کشمیری مصنوعات کا کاروبار کرنے والے شامل ہوسکتے ہیں۔ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ سیاحت کے حوالے سے غیر ملکی مندوبین کو ہر وہ سہولیات فراہم کریں جس کے لئے کشمیر پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ان کو غیر ملکی مندوبین کو غیر معمولی مہمان نوازی دکھانی چاہئے تاکہ ان کو معلوم ہوسکے کہ کشمیری انتہائی شائیستہ ااور بااخلاق ہیں ۔کشمیری عوام کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جی 20اجلاس یہاں کی معیشت کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے اور اجلاس میں جو بھی فیصلے لئے جاینگے جب انہیں عملایا جاے گاتو واقعی کشمیر ٹوارزم کے لحاظ سے بلندیوں پر پہنچ سکتاہے ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایس کے آئی سی سی میں جی 20ملکوں سے وابستہ مندوبین کا اجلاس 22مئی سے 24مئی تک ہوگا اور تین دن کے اس اجلاس کے کا میاب انعقاد کیلئے حکومت ہر سطح پر متحرک ہوگئی ہے ۔











