کونسلنگ اور قانونی مشوروں سے مقدمات کو حل کرنے کیلئے ضلعی اِنتظامیہ کو سراہا
چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس این کوٹیشور سنگھ نے بارہمولہ ضلع کے اَپنے دورے کے دوسرے دِن آج خواجہ باغ میں وَن سٹاپ سینٹر اور ڈسٹرکٹ ہب فاروومن ایمپاورمنٹ ( ڈی یو ڈبلیو اِی)کا دورہ کیا اور اُنہوں نے سہاں دونوں سینٹروں کے کام کاج کا جائزہ لیا اور عملے کے ساتھ جامع اِستفساری گفتگو کی۔ اِس موقعہ پر رجسٹرار جنرل شہزاد احمد، چیف جسٹس کے پرنسپل سیکرٹری مہندر کمار شرما، ڈپٹی اِنسپکٹر جنرل پولیس شمالی کشمیر وویک گپتا ، سینئر سپر اِنٹنڈنٹ پولیس بارہمولہ امود اشوک ناگپورے ، اے ڈی ڈی سی اعجاز عبداللہ صراف کے علاوہ تمام متعلقہ محکموں کے اَفسران بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے متاثرین خواتین سے بات چیت کی اور ان کے مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔اُنہوں نے گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کی کامیابی کی مختلف داستانیں بھی سنیں۔چیف جسٹس کو جانکاری دی گئی کہ بارہمولہ میں او ایس سی کے پاس 236 مقدمات درج ہوئے ہیں جن میں گھریلو تشدد ، اِنسانی سمگلنگ ، طلاق ، بلیک میلنگ اور دیگر معاملات شامل ہیں۔چیف جسٹس نے دوران بات چیت سینٹروں کے کام پر اطمینا ن کا اِظہار کیا اور کونسلنگ اور قانونی مشوروںسے مقدمات کو حل کر کے شاندار پیش رفت حاصل کرنے پر ضلعی اِنتظامیہ کو سراہا۔اُنہوں نے کہا کہ سینٹر او ایس سی کو موصول ہونے والی شکایات کو مو¿ثر طریقے سے نمٹانے میں سہولیت فراہم کرتا ہے اور ضلع میں خواتین کو درپیش مسائل کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔اُنہوں نے عملے کے ساتھ الگ الگ اِستفسار کیا اور سینٹر کے کام کاج کا جائز ہ لیا۔اُنہوں نے سینٹروں کے کام کے دوران اُنہیں درپیش مختلف مسائل کا جائزہ لیا۔اِس موقعہ پر چیف جسٹس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی اور صنفی حساسیت کو لانے کے مقصد سے مختلف اَقدامات بالخصوص گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین تک پہنچ کر شروع کئے گئے ہیں ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس اقدام کا مقصد خاندانوں میں تنازعات اور خواتین کے خلاف تشدد کو روکنا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ متاثرین اور عملہ کے ساتھ زیر بحث تمام سفارشات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ بارہمولہ کی خواتین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ خواتین کو خود کو بااِختیار بنانے کے لئے پُر اعتماد ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ ہی معاشرے کی تشکیل کرتی ہیں۔مزید برآں ، چیف جسٹس نے اَفسران کو ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلانے کی تاکید کی تاکہ خواتین اَپنے حقوق کو سمجھ سکیں۔














