قوموں اور ملکوں کے درمیان اتحاد کی بہت سی مثالیں سامنے ہیں ۔اس اتحاد سے ہر ملک کو آگے بڑھنے اور ترقی کے منازل طے کرنے میں مدد ملتی ہے ۔موجودہ دور میں بھی شدید اختلافات کے باوجود ملکوں اور قوموں کا اتحاد برابر قایم ہے اور یہ مختلف فورموں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔جب بھی ان ملکوں کو کوئی مسلہ درپیش ہوتا ہے یا کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو دوسرے دوست ممالک فوری طور اس کی مدد کیلئے آگے بڑھتے ہیں ۔ملکوں کے درمیاں اتحاد کے نتیجے میں بہت سے کار آمد فورم وجو د میں لائے گئے ہیں جو کافی متحرک ہیں اور جن کی کارکردگی اطمینان بخش قرار دی جاسکتی ہے ۔ان ہی فورموں میں جی 20نام کا ایک فورم بھی جس کی صدارت اس وقت بھارت کے پاس ہے اور جس کا ایک اجلاس 22مئی سے 24مئی تک سرینگر میں ہوگا وجود میں لایا گیااس اجلاس میں فورم سے وابستہ 20ملکوں کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے ان کا تعلق سیاحت سے ہے ۔سرینگر میں منعقد ہونے والا اجلاس محض مندوبین کی سیر و تفریخ اور کھانے پینے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں اس خطے یعنی جمون کشمیر میں معاشی استحکام کیلئے ممبر ملکون کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات پر غور و خوض کے بعد اہم فیصلے کئے جاینگے جیسا کہ سرکاری طور پر ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس اجلاس میں کشمیر میں سیاحت کو بڑھاوا دینے اور سرمایہ کاری اہم موضوعات ہونگے اور اجلاس صرف قرار دادوں تک ہی محدود نہیں ہوگا بلکہ اس اجلاس میں پاس کی جانے والی قرار دادوں کو عملانے کے لئے فورم ہر ممکن اقدامات کرے گا۔جانکارحلقوں کے مطابق جہاں تک سیاحت کا تعلق ہے تو جموں کشمیر میں اس سیکٹر سے وابستہ افراد کی مالی حالت کافی مضبوط مستحکم ہوگی ۔عالمی سطح پر کشمیر کو ٹوارزم کے حوالے سے متعارف کرنے سے دنیا بھر کے ممالک سے لوگ یعنی سیاحوں کی جوق در جوق آمد متوقع ہے ۔اگرچہ ماضی میں بھی مختلف بیرون ممالک سے وابستہ سیاح یہاں آتے رہے ہیں لیکن اس فورم میں جو دوسرے چھوٹے بڑے ممالک شامل ہیں انہوں نے پہلے ہی اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے ملکون کے عوام کو جمون کشمیر کی سیاحت کے لئے خصوصی مراعات فراہم کرینگے تاکہ ان کے لئے کشمیر جانا ماضی کے مقابلے میں آسان ہوگا۔اس وقت بھارت کی طرف سے کئی ملکوں میں جانے کیلئے ویزا وغیرہ کی پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اسی طرح اس بات کا بھی امکان ہے کہ کشمیر کی سیاحت کیلئے آنے والے لوگوں کیلئے ویزا کے حصول کیلئے نرمی کی جاے گی۔غرض جی 20اجلاس سے جموں کشمیر اور خاص طور پر وادی میں سیاحت کو کافی فروغ ملے گا اور سرمایہ کاری پر جو ممالک آمادہ ہونگے ان سے بھی بیروزگاری پر کافی حدتک بلکہ بہت زیادہ قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔اس اجلاس میں لئے جانے والے فیصلوں کو جب عملایا جاے گا تو یہاں نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کے پیچھے پڑنے کے بجاے اپنا روزگار خود شروع کرنے کیلئے مواقع فراہم ہونگے جن سے کشمیری نوجوان نوکری لینے والے نہیں بلکہ نوکری دینے والے بن جائینگے ۔











