ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے مختلف محکموں میں کام کرنے والے 35702عارضی ملازمین کی مستقلی کا اصولی طور پر اعتراف کرتے ہوے کہا کہ ان عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائینگے البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس بارے میں کب حتمی فیصلہ کیا جاے گا۔تقریباًدس دس پندرہ پندرہ برسوں سے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین بار بار اپنی مستقلی کے حوالے سے احتجاج کرچکے ہیں اور حکومت کو بھی زبانی اور تحریری طور پر اس بات کی یاد دہانیاں کروائی گئیں کہ ان عارضی ملازمین کو مستقل کیا جاے ۔ان ملازمین نے بتایا کہ ان میں سے بیشتر عمر کی اس حد کو پار کرگئے ہیں جو حصول نوکری کے لئے مقرر کی گئی ہے جبکہ بہت سے شادی شدہ ہیں اور بال بچے والے ہیں اگر ان کو مستقل نہیںکیا گیا تو ان کا مستقبل تباہ ہوجاے گا اور اس کے ساتھ ہی ان کا پریوار بھی تنگ دستی کی لپیٹ میں آسکتا ہے بشرطیکہ حکومت ان کی مستقلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرلے ۔اب تک متعدد مرتبہ حکومت ان عارضی ملازمین کے بارے میں وعدے کرتی رہی لیکن اب اس بار ایک مقامی خبررساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے ان عارضی ملازمین کی مستقلی کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ۔تاکہ جن محکموں میں یہ ملازمین کام کرتے ہوں ان دفاتر میں افرادی قوت میں اضافہ ہوسکے ۔اس خبررساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ یہ عمل تین ماہ کے اندر اندر مکمل کیاجاے گا۔جہاں تک سرکار کے اس حکمنامے کا تعلق ہے تو اس پر عارضی ملازمین نے اگرچہ اطمینان کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ حکومت کی طرف سے یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ عارضی ملازمین کو مستقل کیا جاے گا لیکن اب تک اس بارے میں کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیاگیاتھا لیکن اب جبکہ باضابطہ حکمنامہ جاری کیا گیا اس سارے عمل کو جلدی پُر کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ادھر اسی طرح کئی ہزار انچارج ہیڈ ماسٹرس نے انکشاف کیا ہے کہ عرصہ دس بارہ برسوں سے ان کی کنفرمیشن نہیں کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں وہ انتہائی مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب حکومت دعوے کررہی ہے کہ سرکاری ملازمین کے مسایل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جاینگے لیکن عرصہ دس بارہ برسوں سے انچارج ہیڈ ماسٹروں کو ٹرخایا جارہا ہے ۔سرینگر میں احتجاج کرنے والے انچارج ہیڈ ماسٹرس نے کہا کہ گذشتہ بارہ برسوں کے دوران بہت سے ہیڈ ماسٹر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہین جبکہ ان میں سے بیشتر ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں اسلئے اب جلد از جلد اس سلسلے میں احکامات صادر کئے جانے چاہئے ۔تاکہ ان سبکدوش ملازمین کی مالی معاونت ہوسکے ۔محکمہ تعلیم کے اعلی حکام صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلارہے ہیں اسلئے انہون نے ایل جی سے اپیل کی ہے کہ انچارج ہیڈماسٹرس کے لئے کنفرمیشن کے احکامات صادر کئے جائیں ۔











