وادی کو ملک کی باقی ریاستوں سے ریل کے ذریعے ملانے کے لئے حکومت ہند نے سال 1995میں ایک منصوبہ ترتیب دیا تھا جس میں بتایا گیا کہ سرینگر ،بارہمولہ ،ادھمپور اور جموں کے درمیان ریلوے لائین بچھائی جاے گی اور اس پر لاگت کا تخمینہ 2500کروڑ لگایا گیا ۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ یہ ریلوے پروجیکٹ سال 2002تک مکمل ہوگا یعنی اس پروجیکٹ کے لئے سال 2002کی ڈیڈ لائین مقرر کردی گئی ۔چنانچہ اس پر کام شروع ہوگیا لیکن 2002تک بھی اس پروجیکٹ کا نصف سے بھی کم حصہ تیار کیا گیا تھا اور اس طرح اس ڈیڈ لائین کو مزید بڑھادیا گیا کیونکہ اس مدت تک کوئی حوصلہ افزا کام اس پر نہیں ہواتھا ۔ناردرن ریلوے نے اس سلسلے میں مختلف تاویلیں پیش کیں جو عام لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔اس پروجیکٹ پر کام کی رفتار انتہائی سستی سے جاری رہنے سے خزانہ عامرہ پر کرڑوں کا اضافی بوجھ بڑھ گیا ۔قارئین کو شاید یا د ہوگا کہ 32برس گذرنے کے باوجود ابھی تک یہ پروجیکٹ نشنہ تکمیل ہے ابھی تک کشمیر کو ملک کی باقی ریاستوں کے ساتھ بذریعہ ریل ملایا نہیں جاسکتا ہے ۔اب اس بارے میں کہا جارہا ہے کہ سال 2023میں یہ پروجیکٹ تکمیل کو پہنچے گا لیکن اب تک ایسی کافی ڈیڈ لائئنیں مقرر کی جاچکی ہیں لیکن پروجیکٹ پورا نہیں ہوا۔اور لوگوں کو اس بات کی کوئی امید نہیں کہ سال 2023کے آخر تک اس پروجیکٹ پر کام مکمل ہوگا۔ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ سرینگر بارہمولہ ادھمپور ریلوے پروجیکٹ کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے قومی پروجیکٹ قرار دیا تھا اور متعلقہ ایجنسیوں کو اس پروجیکٹ پر کام سال 2007تک مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی مسٹر واجپائی نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ جس قدر جلد ممکن ہوسکے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے وادی کی اقتصادی حالت بہتر ہوجاتی اور کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملتا لیکن افسوس مسٹر واجپائی یہ حسرت دل میں لئے اس دنیا سے چل بسے ۔کیونکہ پروجیکٹ اب بھی پورا نہیں ہوسکا ہے ۔مرکزی وزارت براے پروگرام امپلیمنٹیشن کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس پروجیکٹ پر کام کی رفتار سست ہونے کے نتیجے میں مرکزی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں جو بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کئے گئے تھے وہ کب کے اختتام کو پہنچے ہیں لیکن مذکورہ بالا پروجیکٹ ابھی بھی پورا نہیں ہوسکا ہے ۔اس بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے اس پر لوگ اب یقین نہیں کررہے ہیں ۔اس سارے معاملے میں سہل انگاری سے کام لیا گیا ۔اگر ریلوے پروجیکٹ وقت پر چالو ہوتا یعنی وقت پر ریلوے لنک چالو ہوتی تو جموں کشمیر کی معشیت کہا ں سے کہاں پہنچ جاتی ۔ادھر سرینگر جموں شاہراہ اب کافی خستہ ہوچکی ہے اور وہ اب زیادہ ٹریفک دباﺅ برداشت نہیں کرسکتی ۔اسلئے ناردرن ریلویز کو چاہئے کہ وہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر وادی کو بذریعہ ریل بیرون ریاستوں سے ملانے کے لئے فوری اقدام کرے ۔












