بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی طر ف سے بارہویں جماعت کے امتحانی نتایج کا اعلان کردیا گیا اور اس بار جیسا کہ رزلٹ نتایج سے ظاہر ہوگیا ہے لڑکیوں نے اپنا لوہا منوالیا ہے اور لڑکوں پر سبقت حاصل کرلی ۔لیکن لڑکوں کو مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان کو پڑھائی کی طرف دھیان دینا چاہئے اور ہر قیمت پر خود کو پڑھائی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے کوششیں جاری رکھنی چاہئے تاکہ وہ نہ صرف اپنے اہل خانہ بلکہ ملک و قوم کی اچھی طرح سے خدمت کرسکیں ۔حصول تعلیم کے لئے سختیاں تو جھیلنی پڑتی ہیں محنت کرنا پڑتی ہے تب کہیں جاکر ایک مقام حاصل کیا جاسکتا ہے ۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں وہ اپنی صلاحتیوں کو بروے کار لاکر اس شعبے جس سے وہ وابستہ ہوتا ہے کا نام روشن کرسکتا ہے ۔جہاں تک بارہویں جماعت کے امتحانی نتایج کا تعلق ہے تو اس کی طرف لوگ خاص طور پر دھیان دیتے ہیں اور اسے اس لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ ایک طالب علم کے مستقبل کا دروازہ ہوتا ہے جس میں وہ داخل ہوکر اپنا مستقبل سنوار سکتا ہے یعنی اسے اس بات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس شعبے میں طبع آزمائی کرکے آگے بڑھ سکتا ہے ۔اب جس طالب علم چاہے لڑکا ہو یا لڑکی نے جتنے بھی مارکس حاصل کئے ہونگے اسے اسی حساب سے سلیکشن ہوگی ۔زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے صرف ایک شعبے سے وابستگی لازمی نہیں اور نہ ہی طلبہ کو اس بات کا افسوس ہونا چاہئے کہ انہیں ان کی من پسند سٹریم نہیں مل سکی بلکہ جس کسی شعبے میں اسے طبع آزمائی کا موقعہ ملے گا اسے اپنی محنت سے اسی شعبے میں چار چاند لگانے ہونگے اس طرح اس کا نام روشن ہوگا اور اس سے نہ صرف اس کے والدین بلکہ لوگوں کو بھی اس پر ناز ہوگا کہ اس نوجوان لڑکے یا لڑکی نے کشمیر کا نا م روشن کردیا ۔آج کل یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ طالب علم اپنا زیادہ تر وقت موبائیل کے بے جا استعمال میں صرف کرتے ہیں بلکہ انہیں یہ بات یا د رکھنی چاہئے کہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت یہ بات ان کو کڑوی لگے کہ وہ موبائیل کا کم سے کم استعمال کرکے اپنا پورا دھیان اپنے کئیریر کو آگے لے جانے کے لئے استعمال کریں موبائیل وقتی طور پر ان کے لئے راحت کا سامان ہوسکتا ہے لیکن یہ ان کے کئیریر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔طلبہ کو چاہئے کہ وہ منشیات سے دور رہیں اور اپنی صحت سے کھلواڑ نہ کریں ۔نشہ آور اشیاءکا استعمال ایک نوجوان کے لئے سم قاتل ہے جو جسم کے اندرونی اعضا کو کھوکھلا کرکے رکھ دیتا ہے ۔نشہ آور اشیاءکا استعمال کرنے سے دماغ ماوف ہوجاتا ہے ۔پھیپھڑے سکڑ جاتے ہیں اور کام کرنا بند کردیتے ہیں جبکہ دیگر اعضا ءبھی جواب دینے لگتے ہیں اسلئے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے دوستوں وغیرہ کو بھی منشیات سے دور رہنے کی صلاح دیں تاکہ وہ بھی اپنے مستقبل کو سنوارنے کی طرف لگ جائیں۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے آج مقابلے کا زمانہ ہے ۔بیروزگاری بڑھتی جارہی ہے صرف وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو کڑی محنت کرتا ہے اور خرافات سے دور رہتا ہے ۔یہ نوجوانوں کے اپنے بس میں ہے کہ وہ سیدھے راستے پر چلیں اور ان تمام چیزوں سے دور رہیں جو اس کی کامیابی اور کامرانی کی راہ میں آڑے آتی ہیں ۔دین کی طرف رغبت اور برائیوں ،جھوٹ اور مکر و فریب سے دوری بنائے رکھنے سے کامیابی آپ کے قدم چوم سکتی ہے ۔











