گرفتار شدگان سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد
سرینگر/22دسمبر/جموں کشمیر پولیس نے کپوارہ اور بڈگام سے ممنوعہ تنظیم حزب المجاہدین کے 5معاونین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار شدگان سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ 65ہزار روپے نقدی بھی برآمد کرلی گئی ہے اور ان سے پوچھ تاچھ جاری ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں عسکریت پسندوں کے پانچ معاونین کو اسلحہ اور گولہ بارود سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جاری کردہ ایک بیان میںپولیس ترجمان نے کہا کہ ضلع پولیس کپواڑہ اور فوج کو ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ایک مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ کرالپورہ علاقے میں حزب المجاہدین (HM) تنظیم کا ایک ماڈیول سرگرم ہے جو نہ صرف عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے میں مدد کرنا بلکہ اسلحہ اور گولہ بارود سمیت دیگر رسد فراہم کرنااور دیگر طرح کی مدد کاکام کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیم نے ملیٹنٹوں کے تین ساتھیوں کو گرفتار کیا جن کے نام ابو روف ملک ولد غضن محمد ملک اور الطاف احمد پائر ولد گہ قادر پائر دونوں دردسن کرالپورہ کے رہائشی اور ریاض احمد لون ولد محمد یوسف لون شامل ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران تینوں نے پاکستان میں مقیم ایک جنگجوہینڈلر فاروق احمد پیر المروف ندیم عثمانی آف کاکروسہ کپواڑہ کی ہدایت پر ایچ ایم تنظیم کے ملیٹنٹوںکے لئے دو ٹھکانوں کے بارے میں انکشاف کیا جو اس وقت پاک زیر انتظام کشمیر میں مقیم ہے جہاں سے کچھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی چھپایا گیا ہے۔گرفتار تینوں کے انکشاف اور نشاندہی پر دونوں ٹھکانے زیرکیے گئے ہیںجہاں سے01 اے کے رائفل، 02 اے کے میگزین، 119 اے کے گولہ بارود، 01 پستول، 01 پستول میگ، 04 پستول راو¿نڈز، 06 ہینڈ گرنیڈ، 01 آئی ای ڈی، 02 ڈیٹونیٹر، 02 تاروں کے بنڈل اور ایک واٹر ٹینک تقریباً 10 لیٹر کی برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں نے جون 2022 میں 6 لاکھ روپے کی نقد رقم بھی حاصل کی جس کا مقصد ٹھکانوں کی تعمیر اور اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کے لیے مواد حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس 6 لاکھ میں سے 64000 روپے بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزید دو عسکریت پسندوں کے ساتھیوں بشمول ابو مجید بیگ ولد غلام محمد بیگ ساکنہ ہمہامہ بڈگام اور ایک اور بانڈی پورہ جو ان کی سرگرمیوں میں ان تینوں کی سرگرم مدد کر رہے تھے کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔عسکریت پسندوں کے ساتھیوں کو بڈگام کا ایک اور د ہینڈلر فیاض گیلانی بھی سنبھال رہا تھا جو اس وقت پی او کے میں مقیم ہے۔گرفتار گروپ کوتشدد سرگرمیوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ، اسلحہ اور گولہ بارود اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ وادی میںملیٹنٹوںکے لیے اہداف کا انتخاب کرنے اور مزید نوجوانوں عسکریت پسندی کے صفوں میں شامل ہونے کے لیے بنیاد پرست بنانے کا کام بھی سونپا گیا تھا۔اس ضمن میں مقدمہ ایف آئی آر نمبر 98/2022 UA(P) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت پولیس اسٹیشن کرالپورہ میں درج کیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کیس میں مزید گرفتاریوں اور بازیابیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔













