نیشنل ائیر کلین پروگرام کا مقصد ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور گاڑیوں اور صنعتی اداروں سے نکلنے والے دھوئیں کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے تاکہ ہوا کا معیار بہتر بنایا جاسکے ۔گذشتہ کئی برسوں سے دہلی میں ہوا کا معیار اس قدر پست تھا کہ وہاں چھاتی کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی جبکہ اس کا اثر زراعت پر بھی پڑا ۔اسی طرح اگر یہاں ہوا کا معیار پست رہا تو اس کا براہ راست اثر یہا ں کے لوگوں کی صحت کے علاوہ زراعت پر بھی پڑ سکتا ہے چنانچہ حکومت نے اس مقصد کے لئے بہت سے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہوا کا معیار بہتر سے بہتر بنایا جاسکے ۔اس سے قبل اور آج بھی یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ جب حکومت ایسے فلاحی پروگرام دردست لیتی ہے تو اس وقت تک ان کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے جب تک لوگ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کرینگے ۔اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ اس حوالے سے حکومت کی جو بھی گائیڈ لائینز ہوں ان پر من و عن عمل کریں۔ان ہی دنوں ڈپٹی کمشنر سرینگر کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سرینگر ضلع میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے شروع کئے گئے پانچ کروڑ روپے کے سٹی سپیسفک ایکشن پلان کی پیش رفت کا جائیزہ لیا گیا ۔میٹنگ میں سڑکوں پر دھول کی باضابطہ صفائی کے لئے ڈسٹنگ اور ویکیوم کلیننگ گاڑیوں کی خریداری ،جیٹ واشر واٹر سپرے اور سڑکوں پر فواروں کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی ٹاوروں کی تنصیب اور ائیر کوالٹی مانٹیرنگ سسٹم کو نصب کرنا شامل ہے ۔ان کاموں کے لئے ٹنڈرنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں اور صنعتی اداروں کی چمنیوں سے بھی جو دھواں نکل رہا ہے اسے کم کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔کچھ برس قبل حکومت نے یہاں موسم خزان میں جب چنار کے پتے گرتے ہیں تو کچھ لوگ ان کو ایک جگہ جمع کرکے ان کو کویلہ بنانے کے لئے جلاتے تھے یا درختوں سے گرنے والی شاخوں اور پتوں کو گھروں کے آنگن یا صحنوں میں جلاتے تھے اس سے بھی ہوا کا معیار گرتا تھا اگرچہ حکومت نے اس طرح کے عمل پر روک لگائی تھی لیکن اب بھی مختلف مقامات پر چنار کے پتے جلانے سے لوگ احتراز تو کرتے ہیں لیکن گھروں میں پتے اورپتلی ٹہنیاں جلانے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔سرینگر میونسپلٹی کی طرف سے اگرچہ ایسا کرنے والے گھر مالکاں کو انتباہ کیا گیاتھا لیکن لوگوں نے اس پر کم ہی عمل کیا ۔اب کوشش یہ ہونی چاہئے کہ گاڑیوں کی پولیوشن چکنگ میں اضافہ کیا جاے اور کارخانہ داروں کو اس وقت بتایا جاے کہ وہ ان کارخانوں سے نکلنے والے دھوئیں میں کمی لانے کے لئے بہتر مشینری نصب کئے جائیں تاکہ ہوا کا معیار بہتر بن جاے اور لوگوں کو اس بارے میں کسی قسم کی کوئی تکلیف برداشت نہ کرنا پڑے ۔حکومت نے اب ای رکشا اور ای گاڑیاں چلانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ایک مستحسن قدم قرار دیا جارہا ہے ۔اس سے فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مدد دی جاسکتی ہے ۔












