کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکران کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں اس سلسلے میں حکومت نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں لیکن لوگوں کو ایک بات یا د رکھنی چاہئے کہ جب تک وہ خود احتیاط نہیں برتینگے وہ کسی بھی صورت میں وائیرس سے بچ نہیں سکتے ہیں ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کا کہنا ہے کہ یہ وائیرس کووڈ 19سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور اگر احتیاط نہیں برتی جاے گی تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتاہے ۔چنانچہ مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو اس وائیرینٹ سے دور رکھنے کے لئے گائیڈ لائینز کا اعلان کردیا ہے ۔جن پر عمل درآمد سے اس وائیرس سے بچا جاسکتا ہے ۔ان گائیڈ لائینز میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ہر صورت میں ماسکوں کا استعمال کریں لیکن افسوس کا مقام ہے اس وقت 95فی صد لوگ ماسکوں کا استعمال نہ کرتے ہوے وائیرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ منہ اور ناک سے جو پانی کی چھینٹیں نکلتی ہیں ان سے ہی وائیرس پھیلتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں گاڑیوں ،دکانوں ،شاپنگ مالز ،سڑکوں ،ہسپتالوں ،ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلنکوں وغیرہ پر موجود لوگ اس قدر ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوے نظر آتے ہیں کہ ان حالات میں صرف ماسک سے ہی وہ وائیرس سے بچ سکتے تھے لیکن ان کو اس بات کا کوئی احساس نہیں نہ ماسک پہنتے ہیں اور نہ ہی سماجی فاصلہ بنائے رکھتے ہیں ۔ان حالات کو دیکھتے ہوے وائیرس کے پھیلنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوجاتے ہیں ۔یہاں بھلے ہی اومیکران کا کوئی کیس نہ ہو لیکن کووڈ 19تو ابھی برابر موجود ہے اور اس کے ہوتے ہوے لوگوں کو احتیاط برتنی چاہئے تھی لیکن لوگ نہ جانے کس غفلت میں پڑے ہیں اور وہ اب اس حوالے سے کوئی بھی احتیاط نہیں برتتے ہیں ۔دوسری جانب سیاح دھڑا دھڑ آرہے ہیں اسلئے بھی لوگوں کو ایسے اقدامات سے دور رہنا ہوگا جن سے وائیرس میں مبتلا ہونے کے امکانات ہوں ۔کل ہی حکومت نے نئے سرے سے گائیڈ لائینز کا اعلان کیا ہے جس میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ لوگ ہر صورت میں ماسک پہنیں اور باربار ہاتھ دھوئیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ جیسے سب کچھ بھول گئے ہیں دنیا وی کاموں میں اس قدر مشغول ہوگئے ہیں کہ ان کو اب اپنے اور اپنے اہل و عیال کی بھی کوئی فکر دامنگیر نہیں رہتی ہے ۔دوسری جانب حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ جو سیاح یہاں آینگے ان کی اچھی طرح سے جانچ ہونی چاہئے تاکہ ان کی وجہ سے یہاں نیا وائیرس نہ پھیل سکے ۔اگرچہ ہوائی اڈے پر معقول انتظام ہے لیکن سرینگر جمون شاہراہ پر بھی نہایت ہی سخت انتظام کرنا چاہئے ۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر اس قدر ٹیسٹنگ کا انتظام نہیں جس قدر ہوائی اڈے پر ہے ۔اس بارے میں حکومت کو فوری طور نوٹس لے کر ان لوگوں کی بھی جانچ کرانے کا عمل شروع کرنا چاہئے جو باہر کی ریاستوں سے وادی میں داخل ہوتے ہیں چاہے وہ سیاح ہوں ،تاجر ہوں مزدور ہوں یا ملازمین یا طلبہ ہوں۔جب تک ایسا نہیں کیا جاے گا تب تک اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا ہے کہ یہاں نیا وائیرس نہیں پھیل سکتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی متاثر شخص گاڑی کے ذریعے سرینگر کا رخ کرے گا اور جب شاہراہ پر چکنگ کا معقول انتظام نہ ہو تو وہ یہاں تباہی مچا سکتا ہے ۔










