حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد سکیموں کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ بھی معاشرے میں عزت و وقار کی زندگی گذار سکیں اور انہیں کسی کا دست نگر نہ بننا پڑے ۔اس سلسلے میں حکومت نے جو متعدد سکیمیں رایج کی ہیں خواتین پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ اس سکیموں سے فایدہ اٹھائیں اور سماج میں باعزت زندگی گذاریں ۔ مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں جن میں سرکاری افسراں کے علاوہ رضاکار تنظیموں سے وابستہ اراکین خواتین کو ان سرکاری سکیموں سے آگاہ کرتے ہیں جو حکومت نے بنائی ہیں اور جن سے خواتین کو فایدہ اٹھانے کی تلقین کی جاتی ہے ۔ان پروگراموں میں خواتین کو مختلف سرکاری سکیموں اور ان کے لئے دستیاب فلاحی خدمات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ان پروگراموں کی کافی پذیرائی ہورہی ہے کیونکہ ان میں بیواﺅں ،بزرگ خواتین اور خاص طور پر جسمانی طور معذور خواتین کے لئے پینشن سکیموں ،معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لئے شادی کی امدادی سکیموں ،مصیبت میں گھری خواتین کے لئے ون سٹاپ سینٹر کی طرف سے فراہم کی جانے والی مدد اور خدمات ،روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مختلف پروگراموں اور اور خواتین کے تحفظ سے متعلق اہم ہیلپ لائین نمبروں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی جارہی ہیں ۔اس کے علاوہ لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر خصوصی توجہ پر زور دیا جارہا ہے ۔خواتین پر مبنی دیگر فلاحی سکیموں اور سماجی معاونت کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے ۔غرض ایسے پروگرام خواتین کے لئے کافی اہمیت کے حامل قرار دئے جاسکتے ہیں ۔ان پروگراموں میں آنگن واڑی ورکرس ،نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے نمایندے اور ان علاقوں کی خواتین جہاں ایسے پروگرام شروع کئے جاتے ہیں شریک ہوتی ہیں ۔غرض حکومت خواتین کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی ہے ۔خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے جو خصوصی سیکم رایج کی گئی ہے اور جن کے بارے میں خواتین پرزور دیا جارہا ہے کہ وہ ان کو اپنائیں اور ان سے بھر پور فایدہ اٹھائیں کا نام مشن شکتی رکھا گیا ہے اسلئے خواتین کو ان فلاحی سکیموں کے اپنانے میں پہل کرنی چاہئے ۔ان سکیموں کو اپنا کر ایک خاتون سماج اور معاشرہ میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرسکتی ہے ۔اس کے علاوہ لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری اس کے والدین پر عاید ہوتی ہے ۔اگرچہ شہر اور قصبہ جات میں لوگ اپنی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے ہر مشکل کا سامنا کرتے ہیں لیکن دور دراز علاقوں اور سماج کے پچھڑے طبقوں کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلوانے میں پس و پیش کرتے ہیں ۔تعلیم کا حصول صرف سرکاری نوکریوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہئے بلکہ اگر کوئی عورت سرکاری نوکری نہ بھی کرے پھر بھی ایک ذمہ دار ماں کا رول وہ اسی صورت میں ادا کرسکتی ہے جب وہ پڑھی لکھی ہو ۔حکومت نے گاﺅں گاﺅں قریہ قریہ سکول کھولے ہیں جہاں لڑکیوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور اگر کوئی ماں باپ اپنی بچی کو سکول نہ بھیجے تو اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے ۔اسلئے حصول تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہئے اور لڑکیوں کو اچھی سی اچھی تعلیم دلوانے کے لئے والدین کو کوشش کرنی چاہئے ۔












