پہلگام سانحہ سے جو زخم لگے ہیں وہ ابھی بھی ہرے ہیں اور ان کے مندمل ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں ۔کل یعنی 24اپریل کو بھی وادی بھر میں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس سانحہ کے خلاف اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ کنبوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ان کی ڈھارس بندھائی ۔گھنٹہ گھر کے سامنے جن لوگوں نے احتجاج کیا ان میں سے بیشتر کشمیریوں نے پہلگام سانحہ پر آنسو بہائے اور اس کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکایا جاے ۔کل بھی چاروں اور غم و اندوہ کے بادل چھائے رہے ۔ہر کشمیری کا چہرہ مرجھایا ہواہے ۔کشمیریوں نے پہلے ہی اس بات کا واضع طور پر اعلان کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں کشمیری ملوث نہیں ہوسکتے کیونکہ کشمیری امن پسند قوم ہے اور کشمیریوں نے کبھی بھی سیاحوں کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کی ۔بائیسرن میں جب یہ واقعہ رونما ہوا تو اس وقت کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ایک کشمیری نوجوان زخموں سے چور ایک سیاح کو کندھے پر اٹھاکر اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش کررہاتھا ۔بہت سے سیاحوں نے ٹیکسی اور کیب ڈرائیوروں کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے ان سیاحوں کو یقین دلایا کہ وہ سینوں پر گولیاں کھائینگے لیکن ان پر آنچ نہیں آنے دینگے ۔یہ کشمیریت ہے اور یہی انسانیت ہے ۔اس واقعے پر ہر کشمیری چاہے مرد ہو یا عورت جوان ہو یا بوڑھا انتہائی رنجیدہ ہے ۔مختلف مذہبی تنظیموں ،سول سو سائیٹی ،تاجر انجمنوں ،ملازمین تنظیموں وغیرہ نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آگئی ہیں ۔ادھر اس طرح کی خبریں پریشانی کا باعث بن رہی ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں کے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں موجود کشمیری طلبہ ،طالبات اور کشمیری تاجروں کو ان ریاستوں میں بعض عناصرکی طرف سے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور انہیں فوری طور ان ریاستوں سے واپس جانے کے لئے ان پر دباﺅ ڈالا جارہا ہے ۔چنانچہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس طرح کے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں انہوں نے ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ،پولیس سربراہوں کے علاوہ وزیر داخلہ سے رابطہ قایم کرکے ان سے کشمیریوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی ہے ۔جو کشمیری طلبہ باہر پڑھنے کے لئے گئے ہیں ان کو بھر پور تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے اور جو کشمیری باہر کاروبار کے لئے گئے ہیں ان کی حفاظت کا ذمہ ان ریاستوں کی حکومتوں پر عاید ہوتا ہے ۔جیسا کہ ان ہی کالموں میں لکھا گیا کہ پہلگام جیسے دہشت گردانہ واقعات میں کشمیریوں کا کوئی ہاتھ نہیں کیونکہ کشمیری کبھی بھی اس طرح کے تشدد میں یقین نہیں رکھتے ہیں ۔کشمیری عوام نے پہلگام سانحہ کے خلاف جس طرح اپنا ردعمل ظاہر کیا اس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھلنی چاہئے جو کشمیری عوام پر خوامخواہ الزامات عاید کرتے رہتے ہین ۔کشمیری عوام نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ دہشت گردی کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے اور دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر لڑتے رہینگے ۔












