سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکز ی وزیر نتن گڈکری نے گاندربل میں وایل پل کے قریب پاندچھ سے منیگام تک چار لین شاہراہ کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کے لئے 827.98کروڑ کے پروجیکٹ کی منظوری کا اعلان کیا ۔اس بارے میں جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق 12.11کلو میٹر پر محیط اس پروجیکٹ میں ایک بڑا پل ،تین چھوٹے پل ،تین کو دوبارہ ترتیب دینا ،اور 51کلو ٹس شامل ہیں ۔کہا جارہا ہے سرینگر رنگ روڈ فیز 11Aکا ایک حصہ یہ شاہراہ لیہ اور کارگل جانے والے سیاحوں اور دفاعی گاڑیوں کے لئے رابطے میں نمایاں اضافہ کرے گی ۔یہ منصوبہ اہم علاقوں تک رسائی کو ہموار، علاقائی سلامتی اور سیاحت کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرسکتاہے جبکہ سفر کی مجموعی کار کردگی کو بہتربنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتاہے ۔یہ پروجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اہالیان کشمیر کو اس سے کافی راحت مل سکتی ہے ۔کیونکہ یہ روڈ جیسا کہ ظاہر ہوتاہے نوے فٹ سڑک سے کنیکٹ ہوگی ۔قارئین کرام کو غالباً یاد ہوگا کہ جب نوے فٹ سڑک تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو اسے حول چوک سے شروع کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا یعنی یہ سڑک جو پاندچھ تک جاتی ہے مدین صاحب سے ہوتے ہوئے حول چوک تک پہنچ جاتی لیکن نہ جانے اس وقت کیا ہوا کہ حول چوک سے سڑک نوے فٹ سڑک بنانے کا منصوبہ ترک کرکے اسے صورہ تھانے سے شروع کیا گیا ۔اب اگر مرکزی وزیر وادی میں سڑک رابطوں کو طویل بنانے میں دلچسپی لینے لگے ہیں تو انہیں پھر سے اس پروجیکٹ کے بارے میں سوچ وچار کرنا چاہئے کیونکہ اس سے شہر میں ٹریفک جامنگ کے سنگین مسلئے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔جتنی سڑکیں کشادہ اور لمبی ہونگی گاڑیاں آرام سے چل سکتی ہیں جبکہ اس کے برعکس اگر سڑکیں تنگ اور چھوٹی ہونگی تو ٹریفک بھی جام ہوتاہے اور لوگوں کو بھی عبور و مرور میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔جیسا کہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو بھی سڑک تنگ ہے اور چھوٹی ہے تو اس پر گاڑیوں کی آمد و رفت مشکل سے ہوتی ہے ۔یہ مشہور کہاوت ہے کہ اگر کسی ملک ،ریاست یا خطے کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی سڑکوں سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔اسلئے اگر یہان مرکزی وزیر مزید دس پندرہ سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ پیش کرینگے تو یہاں اس حوالے سے انقلاب آے گا اور تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوجاے گا۔جہاں تک شہرمیں خاص کی سڑکوں کا تعلق ہے تو ان کو بہ آسانی کشادہ بنا یا جاسکتاہے تاکہ ان پر ٹریفک میں کوئی خلل نہ پڑ سکے ۔اس سے سیاح بھی شہر خاص میں داخل ہوکر کشمیر کے قدیم فن تعمیر سے واقف ہونے کے علاوہ تاریخی مقامات کو بھی دیکھ سکتے ہیں ۔آج کل بھی سیاح جامع مسجد ،خانقاہ معلی درگاہ حضرتبل ،پتھر مسجد وغیرہ کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق آتے ہیں لیکن آنے جانے میں تنگ و تاریک سڑکیں مانع آتی ہیں اور وہ ان مقامات تک مشکل سے پہنچ پاتے ہیں جن کو دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں ۔اسلئے جس قدر بھی ہوسکے شہر میں سڑکوں کا جال بچھایا جانا چاہئے تاکہ وادی میں اقتصادی صورتحال مستحکم ہوسکے ۔











