مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے ایکس پر لکھا”آج دن کے دوبجے تاریخی سنگ میل طے ہوگیا جب جموں سرینگر ریل لنک کا آخری ٹریک مکمل ہوگیا ۔“یہ واقعہ جمعہ 13دسمبر کا ہے جب ادھم پور بارہمولہ ریل لنک کے لئے ٹریک کا کام مکمل ہوگیا ہے ۔3.2کلومیٹرلمبی T-33ٹنل کا کام جو ویشنو دیوی کے دامن میں واقع ہے اور جو کٹرہ کو ریاسی سے جوڑتا ہے جمعہ کو کامیابی سے مکمل ہوگیا۔اس دوران ریل حکام کا کہنا ہے کشمیر سے دہلی تک پہلی سیدھی ٹرین جنوری میں چلنا شروع ہوجاے گی ۔20دسمبر سے اس سترہ کلومیٹر ٹریک پر آزمایشی ٹرایل ہوگی اور 2 یا3جنوری کو ریلوے سیفٹی کے سربراہ اس ٹریک کا معاینہ کرینگے جس پر یہ ریل گاڑی چلے گی۔اس کے بعد ٹرین کی باضابطہ آزمایش ہوگی جو 25جنوری تک جاری رہے گی۔وزیر اعظم ریاسی اور کٹرہ کے درمیان 272کلومیٹر طویل ادھم پورہ سرینگر ،بارہمولہ ریل لنک کے سترہ کلومیٹر کے حصے کا افتتاح کرینگے ۔کہا جارہا ہے کہ یہ ٹرین آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ 13گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کرے گی۔مجوزہ 62کلومیٹر طویل ٹریک جس میں سے 45کلومیٹر مکمل ہوچکے ہیں کٹرہ اور سنگلدان کے درمیان آتاہے ۔سنگلدان اور ریاستی کے درمیان ٹرین کی ٹرائیل رن مکمل ہوچکی ہے اس حصے پر دریائے چناب پر دنیا کا بلند ترین پل بھی ہے پر سے بھی یہ ٹرین گذرے گی۔اہل وادی کے لئے یہ ٹرین ایک سوغات سے کسی بھی طرح کم نہیں ہوگی کیونکہ سرینگر جموں شاہراہ نے اب تک ہزاروں لوگوں کی جان لی ہوگی کیونکہ اس سڑک پر کوئی بھروسہ نہیں کہ اس پر کب کیا ہوگا۔معمولی سی بارش سے سڑک کبھی کبھار ہفتوں بند رہا کرتی ہے جس سے وادی میں بسا اوقات اشیائے ضروریہ اور خاص طور پر زندگی بچانے والی ادویات کی بھی کمی محسوس ہوتی تھی ۔اس کے علاوہ وادی کے لوگوں کو زبردست پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونا پڑتاتھا ۔لیکن اب جبکہ نئی دہلی اور سرینگر کے درمیان براہ راست ریل گاڑی چلے گی تو ظاہر ہے کہ یہ پریشانیاں دور ہوجائیگی ۔سرینگر اور دہلی کے درمیان ریل سروس سے وادی کا ملک کی بیرون ریاستوں کے ساتھ بارہ کے بارہ مہینے رابطہ قایم رہے گا اور اس سے کشمیر کی اقتصادی صورتحال میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی۔سب سے اہم مسلہ یہ ہے سیاحت کے شعبے کو فروغ ملے گا ۔ہوائی کرایہ جو گذشتہ برسوں میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اس سے سیاح بچ سکتے ہیں اوروہ یہاں آرام سے آکر وادی کے حسن کا نظارہ کرسکتے ہیں ۔سیر و تفریح کے ساتھ ساتھ وہ یہاں دل کھولکر شاپنگ بھی کرسکتے ہیں ۔اسی طرح کشمیر سے جو میوہ مختلف تہواروں پر باہر کی منڈیوں میں وقت پر نہیں پہنچ پاتا تھا اب میوہ بیوپاریوں کو بھی سڑک کے حوالے سے کوئی پرابلم نہیں ہوگی اور وہ وقت پر اپنا میوہ باہر کی منڈیوں میں بھیج سکتے ہیں جس سے ان کی آمدن میں اضافہ بھی ہوگا اور لوگوں کو تازہ کشمیری میوے سے لطف اندوز ہونے کا بھی موقعہ مل سکتاہے ۔کوئی میوہ ایسا بھی ہوتاہے جو درخت سے اتارنے کے بعد صرف دوچار دنوں تک ہی کھانے کے قابل رہتاہے ۔اس طرح کا میوہ بھی ریل کے ذریعے باہر کی منڈیوں میں بھیجا جاسکتاہے ۔وادی میں ریل سے کسی چیز کی قلت پیدا نہیں ہوگی اور ہر چیز کسی بھی وقت مناسب داموں پر دستیاب ہوا کرے گی۔











