مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر وقتاً فوقتاًاپنے اپنے اضلاع میں ان محکموں کی کارکردگی کا جائیزہ لیتے ہیں جو انتہائی اہم نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان میں سب سے اوپر اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل محکمہ صحت ہے ۔کیونکہ اس محکمے کے تحت کام کرنے والے اگر کوئی کوتاہی برتینگے تو اس سے انسانی صحت کے بگڑنے کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی انسانی جان بھی چلی جاتی ہے ۔اسلئے ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع کے صحت اداروں اور ان میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی کارکردگی کا گہرائی سے جائیزہ لیتے رہتے ہیں ۔گذشتہ دنوں ہندوارہ کے ایک صحت مرکز میں ایک شہری چل بسا ۔اس شہری کے لواحقین نے اس کے لئے ہسپتال عملے کی مبینہ غفلت شعاری کو اس کی موت کے لئے ذمہ دار قرار دیا ۔چنانچہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ایک سہ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جو اس سارے معاملے کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو سونپے گی جس کے بعد اگلی کاروائی کی جاے گی یعنی اسی رپورٹ کی روشنی میں قانونی کاروائی کی جاے گی۔چنانچہ اس واقعے کو مدنظر رکھ کر ڈپٹی کمشنر نے ضلع کے چیف میڈیکل افسر اور بلاک میڈیکل افسروں کی ایک میٹنگ بلائی جس میں ہیلتھ سیکٹر کا جائیزہ لیا گیا ۔اس موقعے پر ڈپٹی کمشنر نے میٹنگ کے شرکاءکو بتایا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ڈاکٹر ،یا نیم طبی عملے سے وابستہ کوئی بھی ملازم اپنی ڈیوٹی سے کسی بھی قسم کی غفلت شعاری کا مظاہرہ نہیں کرے گا بلکہ وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے فرایض منصبی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے گا ۔ ڈپٹی کمشنر گاندربل نے بھی اسی طرح اپنے ضلع کے صحت مراکز کی کارکردگی کا جائیزہ لینے کے لئے میٹنگ طلب کی ۔اس میں بھی ڈسٹرکٹ ہسپتال کی کار کردگی کا جائیزہ لیا گیا ۔میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اگر کسی بھی صحت مرکز میں کوئی کمی بیشی ہو اسے فوری طور دور کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کو بر وقت اور بہترین طبی خدمات حاصل ہوسکیں ۔انہوں نے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ بلاوجہ مریضوں کو سرینگر کے بڑے ہسپتالوں میں ریفر کرنے کے عمل سے گریز کریں کیونکہ لوگوں کی طرف سے یہ شکایت کی جارہی ہے کہ مختلف اضلاع میں جو ضلع ہسپتال قایم ہیں وہاں کا عملہ بقول ان کے مبینہ طور پر بلاوجہ مریضوں کو سرینگر کے صدر ہسپتال یا صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ ریفر کرتے ہیں ۔اس طرح صدر ہسپتال یا صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں داخل بیشتر مریضوں کا ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں بہترین طریقے پر علاج کیا جاسکتا ہے لیکن ان کو بلاوجہ سرینگر ریفر کیا جاتاہے ۔یہ الزام کہاں تک سچ ہے اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ بعض لوگ بار بار اس طرح کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں ۔ضلع کے ڈپٹی کمشنروں کو از خود اس بات کا جائیزہ لینا چاہئے کہ آیا صحت اداروں میں سٹاف کی کوئی کمی تو نہیں ہے یا ان میں ضروری آلات اور ادویات کا بھر پور سٹاک موجود ہے یا نہیں ۔غرض صحت اداروں کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے تاکہ لوگوں کو ان سے طبی خدمات کے حصول میں کوئی مشکل یا رکاوٹ پیش نہ آے ۔










