پیٹرول پمپ مالکان نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ نوعمر طلبہ اور طالبات کو نہ تو پیٹرول اور نہ ہی ڈیزل فراہم کرینگے تاکہ وہ دو پہیہ یا چار پہیہ والی گاڑیاں نہ چلاسکیں ۔یہ نابالغ بچوں کی طرف سے گاڑیاں سکوٹر چلانے کے بڑھتے ہوئے رحجان پر قابو پانے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوسکتاہے اور اس سے نوعمر طلبہ کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے جو اس معاملے میں ضروری ہے کیونکہ ہم نے دیکھا کہ نابالغ طلبہ کی طرف سے گاڑیاں چلانے کا نتیجہ کس قدر بھیانک ثابت ہورہا ہے اسلئے ہر اس اقدام کو روبہ عمل لایا جانا چاہئے جس سے نابالغ بچے سکوٹرگاڑیاں چلانے میں احتیاط برتیں گے ۔اگر پیٹرول پمپ مالکان کا یہ قدم صحیح نشانے پر پڑ جاے گا تو ٹریفک نظام میں کافی حد تک سدھا ر آسکتاہے ۔ادھر ٹریفک پولیس نے شہر میں جو مہم شروع کی ہے اس کے تحت اب تک دو ہزار سے زیادہ سکوٹیاں ،سکوٹر اور موٹر سائیکلیں ضبط کی جاچکی ہیں لیکن پھر بھی حادثات کیونکر جنم لے رہے ہیں ۔اور خاص طور پر ایچ ایم ٹی سے نارہ بل ٹریک کیونکر حادثات کے حوالے سے انتہائی حساس بنتا جارہا ہے ۔اس ٹریک پر گذشتہ ایک ماہ میں تقریباً ایک درجن سے زیادہ حادثات رونما ہوے ہیں ۔مقامی لوگوں نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ محکمہ ٹریفک کی طرف سے دو پہیہ والی گاڑیوں کے ضبط کرنے سے اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا ہے جب تک نہ سو مو والوں ،لوڈ کئیریر ڈرائیوراںاور ٹیپر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف کاروائی نہیں کی جاے گی۔انہوں نے کہاکہ اس ٹریک پر سب سے زیادہ حادثات بقول ان کے صرف تیز رفتار سومو ڈرائیوروں ،لوڈ کیریر ڈرائیوروں اور ٹیپر ڈرائیوروں کی وجہ سے ہوتے ہیں جو سو سے اوپر کی سپیڈ میں گاڑیاں دو ڑا کر راہ گیروں اور وسرے لوگوں کے لئے موت کا سبب بن جاتے ہیں ۔ان کے خلاف کیوں کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ہے ؟ان کی تیز رفتاری کی بنا پر یہ ٹریک حادثات کے حوالے سے کافی حساس بن چکاہے اور اگر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائیزہ لیا جاے گا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجا ےگا۔نابالغ لڑکے اور لڑکیاں ہی حادثات کا موجب نہیں بن رہے ہیں بلکہ وہ لاپرواہ ڈرائیور بھی حادثات کے مرتکب ہوتے ہیں جو حد سے زیادہ گاڑیاں تیز چلاکر لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ان کو بھی گرفتار کرکے ان کی گاڑیاں ضبط کرنے کے علاوہ ان کے لائیسنس منسوخ کئے جانے چاہئے ۔محکمہ ٹریفک نے نابالغوں کی طرف سے گاڑیاں چلانے کے خلاف جو کاروائیاں شروع کی ہیں جہاں ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کی سراہنا کرتے ہیں تو دوسری طر ف وہ سومو ڈرائیور ،وہ ٹپر اور لوڈ کئیریر ڈرائیور بھی سزا کے حقدار ہیں جو تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاکر لوگوں کے لئے مصیبت بن جاتے ہیں ۔محکمہ ٹریفک نے جو مشن شروع کیا ہے اس میں عام لوگوں کا تعاون انہیں حاصل ہوگا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ڈرائیوجاری رکھی جاے گی یا نہیں ۔اس معاملے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ از سر نو ٹرانسپورٹ پالیسی پر غور کرکے کچھ اس طرح کے اقدامات اٹھاے تاکہ حادثات کو کم کرنے میں مدد مل سکے ۔شام کے وقت جب ٹرکوں اور ٹپروں کی نو انٹری ختم ہوجاتی ہے تو پورے شہر میں اس وقت چلنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ ٹپر ڈرائیور کچھ اس تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاتے ہیں کہ ہمیشہ حادثات کا ڈر لگا رہتاہے ۔ان کے خلاف کیوں کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ؟











