نئی دلی/عزت مآب وزیراعظم جناب نریندر مودی نے دو اکتوبر 2024 کو، گوالیار کے نئے 100 ٹی پی ڈی گوبر پر مبنی کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی( پلانٹ کا افتتاح کیا۔ یہ وزیراعظم کے ویسٹ ٹو ورتھ‘‘فضلے سے دولت کمانا’’کے ان کے وژن کی مثال ہے۔گوالیار کے لالٹی پارا میں واقع آدرش گوشالا سی بی جی پلانٹ سب سے بڑا گوشالہ ہے۔ گوالیار میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام اس گوشالے میں 10,000 سے زیادہ مویشی رہتے ہیں۔ آدرش گوشالہ ہندوستان کی پہلی جدید،کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پلانٹ والی بھارت کی پہلی جدید، خودکفیل گوشالہ ہے۔ یہ مدھیہ پردیش کا پہلا سی بی جی پلانٹ ہے جس میں گھروں سے جمع ہونے والے مویشیوں کے گوبر اور منڈیوں سے سبزیوں اور پھلوں کے فضلے سے بائیو گیس تیار کی جائے گی۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق 5 ایکڑ پر پھیلے ہوئے اس اہم منصوبے کو انڈین آئل کارپوریشن کے تعاون سے 31 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ گوشالہ میں نصب یہ سی بی جی پلانٹ گائے کے گوبر کو بائیو سی این جی (کمپریسڈ نیچرل گیس) اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کرتا ہے، اس طرح کاربن کے اخراج کو کم کرتے ہوئے پائیدار طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ پلانٹ 100 ٹن گائے کے گوبر سے روزانہ دو ٹن کمپریسڈ بائیو گیس تیار کرے گا۔ مزید برآں، یہ روزانہ 10 سے15 ٹن خشک نامیاتی کھاد تیار کرتا ہے، جو نامیاتی کاشتکاری کے لیے ایک قیمتی پیداوار ہے۔ تکنیکی طور پر جدید پلانٹ کو طویل مدتی پائیداری کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں، مرکزی پلانٹ کے قریب واقع ونڈو کمپوسٹنگ نامیاتی فضلہ کی مزید پروسیسنگ میں مدد کرے گی۔لالٹی پارا گوشالہ میں سی بی جی پلانٹ معاشرے اور حکومت کے درمیان کامیاب تعاون کا ایک نمونہ ہے، جو پائیدار ترقی میں عالمی معیار قائم کرتا ہے۔ پلانٹ روزانہ دو سے تین ٹن بایو-سی این جی پیدا کرتا ہے، جو فوسل ایندھن کا صاف ستھرا، ماحول دوست متبادل فراہم کرتا ہے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔














