اس وقت مختلف اشیاءکی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عام لوگوں بلکہ حکومت کے لئے بھی پریشانیاں پیدا کررہی ہیں ۔کیونکہ اس سے لوگوں کا بجٹ بری طرح متاثر ہونے لگا ہے ۔خاص طور پر جب کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو لازمی طور پر لوگ مشکلات میں پڑ جاتے ہیں ۔گذشتہ ایک دو برسوں سے یہ بات نوٹ کی گئی کہ ساگ سبزیوں کی قیمتیں ہر دوسرے تیسرے دن بڑھائی جاتی ہیں ۔متعلقہ حکام اپنا دامن چھڑانے کے لئے کہتے ہیں کہ کسی کو بھی اجازت کے بغیر کسی بھی چیز کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاے گی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ساگ سبزیوں کا کاروبار کرنے والے بلاخوف و خطر قیمتیں از خود مقرر کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتاہے کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر یا آفات سماوی سے پیدا شدہ صورتحال کی بنا پر قیمتوں میں اضافے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتاہے ۔یہی حال آج کل پیاز کا ہے جس کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔اس لئے اس کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے حکومت اقدامات کررہی ہے اور رٹیل قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لئے بازاروں میں مزید سٹاک پہنچارہی ہے ۔پیاز کی دستیابی کے لئے NCCFکی طرف سے ریل اور سڑک کی نقل و حمل دونوں کے ذریعے مزید سپلائی تیز ہوجاے گی۔حکومت نے شمالی ریاستوں خاص طور پر جموں کشمیر ،پنجاب ،ہماچل ، وغیرہ میںپنجابی پیاز کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے سو نی پت کے کولڈ سٹوریج میں جمع پیاز فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ حکومت اس سال قیمتوں میں استحکام کے لئے 4.7لاکھ ٹن ربیع پیاز خرید رہی ہے ۔اس نے 5ستمبر کو ریٹیل سلیز کے دریعے 35روپے فی کلو کے حساب سے آف لوڈنگ شروع کی ہے اور ملک بھر کی بڑی منڈیوں میں بلک سیلز بھی ۔سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ اب تک بفر سٹاک میں 1.50لاکھ ٹن سے زیادہ پیاز کو ناسک اور دیگر زرایع کے مراکز سے ٹرکوں کے ذریعے استعمال کرنے والے مراکز سے روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے بھیجا گیا ہے ۔محکمہ زراعت کے مطابق اس سال خریف کی بوائی کا اصل رقبہ 3.82لاکھ ہیکٹر تھا ۔جو گذشتہ سال کی بوائی 2.85 لاکھ ہیکٹر سے 34فی صد زیادہ ہے ۔اس دوران جب لوگوں نے پیاز کی عدم دستیابی کے خلاف شور مچانا شروع کردیا ہے بازاروں اور منڈیوں میں سخت ناراضگی ظاہر کی ہے تو حکومت نے کہا کہ وہ پیاز کی قیمتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے سپلائی کی عارضی رکاوٹوں کے درمیان نرخوں کو مستحکم کرنے کیلئے رٹیل بازاروں میں بفر سٹاک سے زیادہ مقدار میں پیاز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اب جبکہ ہریانہ کولڈ سٹوریج میں جمع پیاز کی بھاری کھیپ جموں کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر سبزی کاروباریوں کے لئے اسے مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتاہے ۔یہاں انتظامیہ کو چاہئے کہ سبزی منڈیوں پر خاص نظر گذر رکھے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ کاروباری پیاز کے علاوہ دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں از خود اضافہ کرکے لوگوں کی جیبیں کاٹنے کی کوشش نہ کریں۔












