اس سے قبل ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ سرما کشمیری عوام کے لئے بے شمار مصائیب و مشکلات لے کر آتاہے ۔ہر طرح کی پریشانیوں کا سامنا لوگوں کو کرنا پڑتا ہے ۔سب سے اہم اور لازمی چیز جس کے حوالے سے لوگ مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بجلی ہے جو سرما شروع ہوتی ہے کبھی کبھار ہی اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔کچھ موسمی حالات کی وجہ سے اور کچھ محکمے کی غفلت شعاری کی بنا پر بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے ۔گذشتہ دنوں محکمے کی طرف سے ایک اہم شٹ ڈاون پروگرام شایع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن کے لئے وادی میں بجلی کٹوتی ناگزیر بن گئی ہے اسلئے جیسا کہ بجلی کلینڈر میں کہا گیا کہ رواں ماہ کے مخصوص ایام میں مختلف اوقات کے دوران بجلی بند رہے گی ۔اس سلسلے میں جو تفصیل ظاہر کی گئی اس میں تقریباًتقریباًپورے شہر کا احاطہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ اس مہینے بجلی کن کن علاقوں میں اور کن اوقات کے دوران بند رہے گی ۔اگر اس طرح بجلی کے کٹوتی شیڈول پر عمل کیا جاتا تو لوگ اسی حساب سے بجلی وغیرہ کے انتظامات کرتے جس میں ان کو آسانیاں پیدا ہوجاتیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وادی میں بجلی کٹوتی کے کسی بھی شیڈول پر عمل نہیں کیا جاتا اور نتیجے کے طور پر لوگوں کو بے پناہ مسایل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس لئے محکمہ کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ بجلی نظام میں بہتری لانے کی کوششیں کرکے سردیوں کے ایام میں جس قدر ہوسکے بجلی کی فراہمی یقینی بنائیں ۔اسی طرح محکمہ واٹر ورکس کو بھی چاہئے کہ وہ سردیوں کے ایام میں لوگوں کو پانی کی فراہمی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔اس وقت جہلم اور اس کی معاون ندیوں اور نالوں کے ساتھ ساتھ جھیل ڈل اور دوسری جھیلوں میں پانی کی سطح ریکارڈ کم پر آگئی ہے ۔اس بارے میں محکمہ اگرچہ کچھ کرنے سے قاصر ہے لیکن اتنا تو کیا جاسکتاہے کہ جہلم اور ان ندی نالوں جن میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک گر گئی ہے کی ڈرجنگ شروع کی جاتی ۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی اور اگست ستمبر میں اگر ضرورت سے زیادہ بارشیں ہوئیں تو سیلاب کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اسلئے اس خطرے کو ٹالنے کے لئے یہ سیزن ڈرجنگ کے لئے مناسب اور معقول نظر آتاہے ۔سال 2014کے سیلاب کی تباہ کاریاں اب بھی ہم سب کو یاد ہیں ۔اس کے بعد اس وقت کی حکومت نے جہلم کی ڈرجنگ کا ٹھیکہ کولکتہ کی ایک فرم کو دیا تھا لیکن اس فرم نے اپنا کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام نہیں دیا جس کے نتیجے میں اس فرم کو بلیک لسٹ کیا گیا بعد میں کسی دوسری فرم کو یہ ٹھیکہ دیا گیا جس نے ڈرجنگ کا کام مکمل کیا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی اس دریا کی ڈرجنگ لازمی ہے کیونکہ اس کی تہہ پرکافی ریت مٹی جمع ہوگئی ہے ۔اسلئے اگر حکومت مناسب سمجھے گی تو اس کی ڈرجنگ شروع کرے گی تاکہ سیلاب کا خطرہ باقی نہ رہ سکے ۔اس کے ساتھ ہی حکومت نے حال ہی میں لوگوں کو اضافی راشن کی فراہمی کا یقین دلایا ہے اسلئے اس اعلان کو فوری طور عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ۔سرما میں لوگوں کو درپیش مشکلات و مسایل سے حکومت آشنا ہے اسلئے لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے کس طرح کے اقدامات لازمی ہیں سرکار سب کچھ بخوبی جانتی ہے ۔











