اخبارات میں ایک اچھی خبر آئی ہے کہ شہر سرینگر میں دودھ کے معیار کی چکنگ کی مہم شروع کردی گئی ہے تاکہ لوگوں کو کسی ملاوٹ کے بغیر دودھ حاصل ہوسکے ۔تاکہ لوگوں کی صحت برقرار رہ سکے اور انہیں اس حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔اس بارے میں فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ محکمہ عوامی صحت کے تحفظ کے لئے پُر عزم ہے ۔”ہم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف نگرانی اور سخت کاروائی جاری رکھینگے ۔محکمے نے کہا کہ صارفین کو ملاوٹ شدہ یا آلودہ دودھ سے بچانے اور کھانے کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے “۔گذشتہ دنوں محکمے کی ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں نمودار ہوگئیں اور لوگوں کو سپلائی کئے جارہے کھلے دودھ اور پیکٹ دودھ کے 28نمونے ضبط کرکے انہیں کیمیائی تجزئیے کے لئے لیبارٹری میں بھیج دیا گیا جہاں سے رپورٹ آنے کے بعد ان ڈیلروں کے خلاف کاروائی کی جاے گی جو ملاوٹ شدہ دودھ لوگوں کو فروخت کرکے ان کی صحت سے کھلواڑ کے مرتکب ہورہے ہیں۔محکمے کے ایک افسر نے بتایا کہ ہفتے کی صبح دودھ کی کوالٹی مہم کا آغاز کیا گیا ۔فوڈ سیفٹی افسر نے بتایا کہ اوپریشن کا مقصد شہر میں سپلائی کئے جانے والے کھلے دودھ کے معیار کا معاینہ کرنا تھا ۔چنانچہ مختلف علاقوں میں یہ مہم شروع کی گئی جس کے تحت تقریباً دو درجن سے زیادہ نمونے حاصل کرکے ان کو تجزئیے کے لئے لیبارٹری میں بھیج دیا گیا ۔اس افسر نے کہا کہ یہ مہم جاری رہے گی ۔عام لوگوں نے محکمہ فوڈ سیفٹی کی اس مہم کو سراہا اور اس کو بھر وقت اور مناسب قرار دے کر محکمے کی اس کاروائی کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی عام لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف دودھ میں ہی ملاوٹ نہیں کی جاتی ہے بلکہ بعض دوسری کھانے پینے کی اشیا تک میں ملاوٹ کرکے لوگوں کو زہر کھلایا اور پلایا جارہا ہے ۔عام لوگوں کا کہنا ہے کہ باہر سے جو ڈبہ بند جو س ،مشروبات اور اچار وغیرہ یہاں لایاجاتا ہے کیا وہ ملاوٹ کے بغیر ہوتاہے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ جو کولڈ ڈرنکس یہاں لائی جاتی ہیں ان میں سے بعض میں سے اس قدر ملاوٹ کی جاتی ہے کہ ان کے استعمال سے معدے کی ایسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو آگے چل کر ناقابل علاج بن جاتی ہیں اور آخر کار انسان کے سامنے صرف موت ہوتی ہے ۔تعجب اس بات کا ہے کہ اگر ان کی پہلے سے جانچ پڑتال کی جاتی تو لوگوں کی صحت کا ستیا ناس نہیں ہوتا۔جو بھی یہاں یا باہر سے جو مصالحہ جات فروخت کئے جاتے ہیں کیا وہ ملاوٹ کے بغیر ہوتے ہیں ؟۔ہر کوئی چاہتاہے اسے صاف اور شدھ کھانے پینے کی اشیاءدستیاب ہوسکے لیکن اگر اس میں ملاوٹ ہو تو اسے کیسے پتہ چل سکتاہے کہ وہ کیا کھا رہا ہے ۔ہمارے پاس صرف فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ ہے جس کے ذریعے ہم کو معلوم ہوسکتاہے کہ کس چیز میں ملاوٹ ہے اور کس میں نہیں اور کون کون سی اشیاءقابل استعمال اور کس چیز کو کھانے سے احتراز کرنا چاہئے ۔غرض جب تک محکمہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ پوری طرح متحرک ہوکر سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا تب تک لوگ ملاوٹ شدہ اشیاءکھا کھا کر اپنی صحت برباد کرتے رہینگے ۔











