جنگلی درندے نے ایک بار انسانوں کی بستی میں گھس کر ایک معصوم کی جان لے لی ۔یہ سانحہ کولگام کے برینو لامڑ علاقے میں اس وقت پیش آیا جب مقامی لوگوں کے مطابق چھ برس کا معصوم بچہ سہہ پہر کے قریب اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا اس دوران خونخوار تیندوا عقب سے نمودار ہوگیا معصوم بچے کو بے دردی نے منہ میں دبوچ کر اپنے ساتھ جنگل کی طرف لے گیا ۔بچے کی چیخ و پکار سن کر لوگ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اس دوران وایلڈ لایف محکمے اور پولیس کو بھی اطلاع دی گئی چنانچہ درجنوں مقامی اور آس پاس کے گاﺅں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر اس خونخوار درندے کے پیچھے دوڑ پڑے تاکہ معصوم بچے کو اس کے چنگل سے چھڑایا جاسکے لیکن و ہ چھلاوا ثابت ہوا اور گھنے جنگلوں میں کسی جگہ چھپ گیا ۔رات دیر گئے تک اور جمعرات دن بھر کی بسیار تلاش کے باوجود خونخوار تیندوے اور نہ ہی معصوم بچے کا کوئی سراغ مل سکا ۔لیکن شام کے وقت معصوم کی میت جنگل سے برآمد کرکے اس کی آخری رسومات ادا کردی گئیں ۔اس دوران اس سانحے سے گاﺅں میں کہرام مچ گیا ۔اس معصوم بچے کے گھروالے ماتم کناں تھے جبکہ دوسرے لوگ بھی اس سانحے پر غمگین و پریشان تھے ۔اس سے کئی ہفتے قبل ہی بانڈی پورہ کے حاجن میں ایک اور معصوم بچہ جبکہ ہمہ ہامہ ایر پورٹ کے قریب بھی ایک معصوم بچی اسی طرح خونخوار درندے کا شکار ہوگئے ۔اس کا کیا علاج ہے اور کس طرح جنگلی درندوں کی انسانی بستیوں میں گھسنے کے عمل کو روکا جاے ایک پیچیدہ معاملہ قرار دیا جارہا ہے ۔اس بارے میں محکمہ وایلڈ لایف کے ایک ماہر نے بتایا کہ جب تک جنگلوں کی بے تحاشہ کٹائی کے عمل کو روکا نہین جاے گا اور جب تک کم سے کم پانچ برسوں تک جنگلوں سے درختوں کے کاٹنے پر پابندی عاید نہیں کی جاے گی تب تک جنگلی درندوں کی طرف سے انسانی بستیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا ۔اس ماہر نے بتایا کہ جنگل ،جانوروں کے لئے قدرتی پناہ گاہیں ہیں ۔ان کے کھانے پینے اور پھر آرام کی جگہیں یہی جنگل ہیں لیکن ایک یا دوسرے بہانے کی آڑ میں جب تک جنگلوں کو کاٹا جاتا رہے گا تب تک انسانوں کو اس طرح کے حملوں کے لئے تیار رہنا پڑے گا ۔اور اگر جنگلوں میں موجود درختوں کو تحفظ فراہم کیا جاے گا تو جنگلی درندوں کے لئے انسانی بستیوں میں گھسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے ۔اسلئے اس بارے میں متعلقہ حکام کو سنجیدگی سے سوچ و بچار کرنا پڑے گا۔اب تک غالباًان برسوں میں پچاس سے زیادہ معصوم بچوں کو جنگلی درندے اسی طرح گھسیٹ کر جنگلوں کی طرف لے کر ان کی چیر پھاڑ کرکے رکھ دی۔اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں لکھا جاچکاہے کہ جب تک جنگلوں کے قریب رہنے والے لوگ از خود اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہوکر جنگلوں کی پہریداری نہیں کرینگے تب تک اس طرح کے سانحات رونما ہوتے رہینگے ۔گاﺅں والوں کو چاہئے کہ وہ جنگلوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اپنا رول ادا کریں بصورت دیگر ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔آج ایک بچہ جنگلی درندے کا شکار بن گیا کل کسی اور کا اور پرسوں کسی دوسر ے تیسرے چوتھے شخص کے بچے کے ساتھ ایسا ہی سانحہ پیش آسکتاہے ۔اس لئے گاﺅں والوں کو گہری نیند سے جاگنا ہوگا اور اپنے بچوں اور اہل عیال کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔












