وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو اس وقت نئی دہلی میں ہیں نے کل یعنی جمعرات 24اکتوبر کو دلی میں دوسرے دن قیام کے دوران زمینی ٹرانسپورٹ کے مرکزی وزیر نتن گڈکرے کے ساتھ ملاقات کی اور اس دوران دوسری باتوں کے علاوہ مختلف سڑک پروجیکٹوں اور اس سے جڑے دوسرے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس سے قبل بدھ کی شام وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ شام دیر گئے ملاقات کی جو جانکار حلقوں کے مطابق خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماوں نے کھل کر اپنے اپنے خیالات ایک دوسرے پر ظاہر کردئے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے امیت شاہ کو اس ریزولیوشن کے بارے میں بتایا جو جموں کشمیر کی نئی حکومت نے پہلی ہی کابینہ میٹنگ میں اتفاق رائے سے قایم کیا اور جس میں مرکز سے اپیل کی گئی کہ جموں کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ بحال کیا جاے ۔کل یعنی جمعرات کو عمر عبداللہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے اور ان کو ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے کابینہ میں پاس کی گئی قرار داد کا مسودہ پیش کیا ۔یہ ملاقات بھی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور وزیر اعظم نے عمر عبداللہ کو اس بات کا یقین دلایا کہ مرکز جموں کشمیر کو ہر ممکن امداد فراہم کرے گا۔قارئین کرام کو معلوم ہوگا کہ جموں کشمیر اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور مرکزی امداد کے بغیر یہاں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں ہوسکتے ہیں ۔وزیر اعلی نے مزید کئی مرکزی رہنماوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی اور دیگر معاملات میں مدد و اعانت کی درخواست کی ہے ۔تاہم بعض خبر رساں ایجنسیوں نے مرکزی حکومت کے قریبی ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ مرکز نے یہ بات واضع کردی ہے کہ فی الحال جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ نہیں دیا جاسکتاہے اور مرکزپانچ چھ ماہ تک حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی اس معاملے پر غور کرسکتاہے ۔چنانچہ اب دربار موﺅ بھی اس سال نہیں ہوسکتاہے کیونکہ وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں اس حوالے سے جو بیان دیا تھا اس سے جموں والوں نے راحت محسوس کی تھی ۔وزیر اعلیٰ نے بڑے بڑے افسروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ 11نومبر سے جموں سیکریٹریٹ میں کام کرنا شروع کردیں لیکن کل ہی جنرل ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ سے ایک حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 11نومبر سے ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری اور بعض ہیڈز آف دی ڈیپارٹمنٹس اپنے عملے سمیت جموں میں کام کرنا شروع کردینگے جبکہ وادی کے ملازمین اور افسر سرینگر سیکرٹیریٹ میں ہی سرمائی ایام کے دوران کام کرتے رہینگے ۔اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ کم از کم اس سال دربار موﺅ نہیں ہوگا ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ کامیابی کی صورت میں دربار موﺅ کی ایک سو پچاس سالہ روایت کو پھر سے بحال کیا جاے گا جو سال 2020کو کووڈ بیماری پھیلنے کے موقعے پر معطل کردی گئی تھی ۔دربار موﺅ کی معطلی پر جموں کے کاروباریوں نے زبردست احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی روزی روٹی بقول ان کے چھین لی گئی ہے ۔گذشتہ دنوں نائیب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے وزیر اعلیٰ سے کہا تھا کہ جموں شہر کے تاجروں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے دربار موﺅ کی روایت کو پھر سے بحال کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے جائیں ۔وزیر اعلی نے اس جانب اشارہ بھی دیا تھا لیکن کل صبح ہی جنرل ایڈمسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جو حکمنامہ جاری کیا گیا اس سے ایسا لگتاہے کہ غالباً اس سال دربار موﺅ نہیں ہوگا۔












