ایک دو دنوں کے اندر اندر نئی حکومت کا خاکہ بالکل صاف نظر آے گا کیونکہ نیشنل کانفرنس کے نائیب صدر عمر عبداللہ جنہوں نے گاندربل اور بڈگام دونوں حلقوں سے جیت درج کرلی نے کہا کہ ایک دو دنوں کے اندر اندر الیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ طلب کی جاے گی اس کے بعد الائینس کے ساتھ مل بیٹھ کر لیجسلیچر پارٹی لیڈر کو منتخب کیا جاے گا ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کا حمایتی خط موصول ہونے کے بعد راج بھون سے وقت مانگ کر حکومت بنانے کا دعویٰ سامنے رکھا جاے گا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور نیشنل کانفرنس اپنے موقف پر چٹان کی طرح قایم ہے ۔عمر عبداللہ نے بار بار میڈیا کے سامنے اس بات کو دہرایا کہ لوگوں کا ووٹ ضایع نہیں ہونے دیا جاے گا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ اسمبلی نہیں جس کے ہم حقدار ہیں لیکن جو نئی اسمبلی معرض وجود میں آے گی وہیں سے سٹیٹ ہڈ کی بحالی کا راستہ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے بذات خود کشمیری عوام سے وعدہ کیا ہے کہ ریاست کا درجہ جلد بحال کیا جاے گااور عوام کو اُمید ہے کہ وزیر اعظم بہت جلد اپنا وعدہ پورا کرینگے ۔دریں اثنا کل پردیش کانگریس کے سربراہ طارق حمید قرہ اپنے بعض رفقا ءکے ہمراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہایش گاہ پر گئے اور ان کو مبارکباد دینے کے علاوہ جیسا کہ ظاہر ہوتاہے کہ حکومت سازی کے بارے میں بھی بات چیت کی ہوگی ۔ادھر جموں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے منتخب ممبران اسمبلی کا بھی پارٹی رہنماوں سے برابر رابط قایم ہے اور جیسا کہ لگتاہے کہ بھاجپا اسمبلی میں ایک پُر وقار اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے لئے حکمت عملی پر غور کررہی ہے یعنی اسمبلی میں کس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران حکومت کو عوامی مسایل کے حوالے سے گھیرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔آنے والے ایام میں جب حکومت تشکیل پائے گی تو حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن یعنی بھارتیہ جنتا پار ٹی کو ان عوامی مسایل و مشکلات کو حل کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا جن کی بنیادپر لوگوں نے اس پارٹی کو اپنا اعتماد دیا ہے ۔کون پارٹی برسراقتدار ہے اور کون اپوزیشن میں ہے اس سوچ سے اوپر اٹھ کر ان پارٹیوں کو عوام کے لئے کام کرنا ہے اور انتخابی منشور میں ان پارٹیوں نے لوگوں سے جو بھی وعدے کئے ہیں ان کوہر حال میں پورا کرنا ہوگا۔جموں کشمیر میں لوگوں کو زبردست مسایل و مشکلات درپیش ہیں اور سب سے بڑا مسلہ بیروزگاری کا ہے ۔نوجوان طبقہ جو اس وقت بیروزگار ی کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے کو روزگار کی فراہمی کے لئے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگاتاکہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقعہ نہ مل سکے کہ ان سے صرف ووٹ مانگے گئے اور بدلے میں ان کو کچھ نہیں دیا گیا ۔اس کے علاوہ دیگر مسایل کا حل بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔سرمائی ایام آرہے ہیں کشمیری عوام کو سرما میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ممبران اسمبلی اس بارے میں بخوبی واقف ہیں اسلئے ان کو دن رات ایک کرکے تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا ۔کیونکہ اس بار لوگوں نے ان کواسلئے ووٹ دئے تاکہ وہ ان کے مسایل و مشکلات کا حل تلاش کرسکیں تاکہ لوگوں کو یہ بات محسوس ہوسکے کہ ان کے ووٹ ضایع نہیں ہوئے ہیں۔











