مقابلہ سخت ہے اور ہر ایک امیدوار کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ۔بدھ 25ستمبر کو جن 26نشستوں پر انتخاب ہونے والے ہیں ان میں سے زیادہ تر نشستیں شہر سرینگر اور ضلع گاندربل میں ہیں اس لحاظ سے ہر ایک کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں ۔ان 26نشستوں پر 239امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں جن میں مختلف چھوٹی بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کے علاوہ زیادہ تعداد آزاد امیدواروں کی ہے جو قسمت آزمائی کے لئے میدان کار زار میں اُتر گئے ہیں۔اس الیکشن کی اہمیت اس لحاظ سے بھی کافی زیادہ تصور کی جاتی ہے کیونکہ یہ دس برسوں کے بعد ہورہے ہیں اور ان انتخابات میں بھاری تعداد میں ایسے ووٹر شامل ہیں جو پہلی بار عمر کے اس پڑاو پر پہنچ گئے ہیں جو ووٹنگ دینے کے اہل قرار دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ نوجوان ووٹروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔نئے ووٹروں اور پہلی بار ووٹ کاسٹ کرنے والوں سے وزیر اعظم سے لے کر چیف الیکٹورل افسر تک بار بار یہ اپیلیں کرچکے ہیں کہ وہ ووٹ دینے کے لئے گھروں سے باہر نکلیں اور کسی بھی صورت میں اپنے ووٹوں کو ضایع نہ کریں ۔سیاسی جماعتیں بھی زور لگارہی ہیں اور ان کے امیدوار زور و شور سے انتخابی مہم چلارہے ہیں ۔اس انتخابی مہم کے دوران امیدوار زیادہ تر گھر گھر مہم چلارہے ہیں یعنی گھروں میں داخل ہوکر مکینوں میں منشور کی کاپیاں تقسیم کررہے ہیں اور ان کو اپنی پالیسیوں اور پروگراموں سے آگاہ کررہے ہیں ۔گاڑیوں پر لاوڈ سپیکر لگا کر امیدواروں کے حق میں گانے بجائے جارہے ہیں۔غرض انتخابی بخار عروج پر ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اچھی بات یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ کسی بھی جگہ انتخابی تصادم نہیں ہوا ۔ہر پارٹی یا آزاد امیدوار اپنی مہم چلارہے ہیں اور کوئی کسی دوسرے امیدوار کی مہم میں نہ تو خلل ڈال رہا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری الجھن پیدا کی جارہی ہے ۔اگرچہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران پانپور ،پلوامہ میں ایک دو پولنگ بوتھوں پرچھوٹے پیمانے پر لڑائی جھگڑے ہوئے بھی لیکن ان پر فوری طور پولیس نے قابو پالیا ۔دوسرے مرحلے کے جو انتخابات ہورہے ہیں وہ چھ اضلاع پر محیط ہیں اور 26نشستوں کے لئے 239امیدوار میدان عمل میں کود پڑ ے ہیں ۔امیدواروں میں جو خاص شخصیتیں انتخاب لڑ رہی ہیں ان میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ،پردیش کانگریس کے سربراہ طارق حمید قرہ ،الطاف بخاری ،غلام حسن میر ،عبدالرحیم راتھر سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیر حکیم یاسین شامل بتائے گئے ۔27امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لئے ۔جس کے بعد میدان میں 239امیدوار رہ گئے ہیں ۔وادی کے علاوہ راجوری ،پونچھ اور ضلع ریاسی میںووٹنگ ہوگی ۔ہوم ووٹنگ کے لئے پول پارٹیوں کو روانہ کردیا گیا ہے ۔پولنگ سٹیشنوں پر ووٹنگ عملے اور عام ووٹروں کی سہولیات کے لئے بجلی پانی اور بیت الخلا کا بھی خاص انتظام کیا گیا ہے ۔جسمانی طورپر معذور افراد اور خواتین ووٹروں کی سہولیات کے لئے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس کے بعد تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے یکم اکتوبر کو ووٹ ڈالے جاینگے اور اگلے ماہ یعنی 8اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔اسی دن دیکھا جاے گا کہ کس کے سرپر فتح کا تاج سجے گا اور کس کے نصیب میں شکست ہوگی۔












