جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں دوسرے مرحلے کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ کے بعد جو امیدواروں کی پوزیشن سامنے آئی ہے ان کے مطابق 27امیدواروں نے اپنے نام واپس لئے ہیں اور اب دوسرے مرحلے کی انتخابی ریس میں 239امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں جن میں سے بیشتر آزاد امیدواروں کی حیثیت سے چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔آج اسمبلی انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ اب ایک ایک انتخابی حلقے میں سولہ سولہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہونے والا ہے ۔دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ امیدوار حبہ کدل انتخابی حلقے میں ہیں ۔الیکشن کمشن ذرایع کے مطابق اس حلقے میں سولہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ چھانہ پورہ میں کم سے کم آٹھ امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں ۔دوسرے اسمبلی حلقوں میں دس بارہ تیرہ بلکہ کئی ایک حلقوں میں چودہ چودہ امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔بہر حال آئین کے مطابق کوئی بھی شہر ی انتخابات میں حصہ لے سکتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی عظیم روایات قایم و دایم ہیں اور جمہوریت کا بنیادی اصول عوام کی حکومت ہے اور عوام کو ہی حکومت کرنے کاحق ہے ۔لوگ اپنے چنے ہوئے نمایندوں کو قانون سازیہ کے ایوانوں میں بھیج دیتے ہیں جو بعد میں اکثریت کے بل بوتے پر حکومت تشکیل دیتے ہیں ۔انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 18ستمبر کو ہوگی دوسرے مرحلے کی 25ستمبر جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ کے لئے یکم اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔اس وقت امیدوار اور دوسرے رہنما گھر گھر مہم چلانے میں مصروف ہیں جلسے جلوس بھی نکالے جاتے ہیں لیکن امیدواروں یا دوسرے رہنماوں کی طرف سے چلائی جانے والی اس مہم میں جوبات مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ ہے امیدوار اپنے فلاحی پروگراموں یا پالیسیوں کو عوام کے سامنے رکھنے کے بجائے مخالف امیدواروں کی ذاتی زندگیوں کو اچھال کر ان پر تیکھے وار کرتے ہیں ۔کسی کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں بے سر و پا الزامات لگائے جاتے ہیں ۔پارٹی رہنما اپنی پارٹی کے الیکشن منشور کی وضاحت کرنے کے بجاے گھڑے مردے اکھاڑنے میں یقین رکھتے ہیں دوسری پارٹی بھی ایسا ہی کرتی ہے۔ایک امیدوار دوسرے امیدوار کے گھریلو معاملات تک عوام کے سامنے رکھتے ہیں ۔جیسا کہ پہلے بھی اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کبھی کبھار امیدوار ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جن کی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی ہے بجاے اس کے کہ لوگوں کے سامنے اپنی پالیسیوں اور پروگراموں کو رکھتے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں ۔الیکشن مہم کے دوران امیدواروں کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے فلاحی پروگرام کو رکھیں ۔لوگوں کو بتائیں کہ ان کے پاس کشمیری نوجوانوں کی بیروزگاری دور کرنے کے لئے کون کون سے پروگرام اور پالیسیاں ہیں ۔صحت ،سیاحت ،تجارت ،ثقافت ،زراعت اور معیشت کو بڑھاوا دینے کے لئے ان کے پاس کس طرح کی پالیسیاں ہیں لیکن اس کے بجاے ایک دوسرے پر گند اچھالنے اور گڑھے مردے اکھاڑنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔جموں کشمیر میں لوگوں کو بے شمار مسلئے مسایل درپیش ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔اسلئے ووٹ مانگتے وقت امید واروں کو ان ہی مسایل و مشکلات کو اجاگر کرنا چاہئے جن کو جیتنے کی صورت میں انہیں دورکرنے کی ذمہ داری عاید ہوگی۔









