اصلاح معاشرہ کی اصطلاح میں کافی گہرائی اور گیرائی ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔کیونکہ اس سے جڑے جو بھی معاملات ہیں اُن میں اصلاح کی کافی گنجایش موجود ہے ۔فی الحال اسوقت سب کی نہیں بلکہ صرف ایک ایسے معاملے کو زیر غور لاینگے جس سے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور جن سے ہمار ا معاشرہ پستی میں ڈوبتا چلاجارہا ہے ۔یعنی وہ ہے شادی بیاہ پر اصراف ۔اب تک اس میں سدھار لانے کی کافی کوششیں کی گئیں لیکن ہر گذرتے روز شادی بیاہ کے مقدس بندھن کو اس قدر سماجی برائیوں میں جکڑا گیا کہ ان سے نکلنا لوگوں کیلئے نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنتا جارہا ہے ۔اب سارے اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن دکھائی دینے لگی ہے وہ بھی شمالی ضلع بارہ مولہ میں جہاں ایک دیہات کی مقامی اوقاف کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آس پاس کے دیہات میں ہونے والی شادیوں کو سادہ طریقے پرانجام دینے کے لئے کام کرے گی تاکہ دوسرے لوگ اس سے متاثر ہوکر سادہ شادیاں رچانے کے عمل کی پیروی کرکے اصلاح معاشرہ میں اہم رول نبھاینگے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگڈارہ نامی گاﺅں کی مقامی اوقاف کمیٹی میں شامل ممبران نے بہ اتفاق رائے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ علاقے میں جتنی بھی شادی بیاہ کی تقریبات منعقد ہونگی ان میں صاحب خانہ سے گزارش کی جاے گی کہ وہ سادہ طریقے پر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں انجام دیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اوقاف کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ خاندانوں پر مالی بوجھ کو کم کرنے ،سماجی مساوات کو فروغ دینے اور شادی بیاہ کی تقاریب کو سادگی سے انجام دینے کے لئے لوگوں کو آمادہ کیا جاے گا ۔اوقاف کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کو شادی بیاہ پر اصراف اور فضول رسم و رواج کو اپنانے سے بچنا چاہئے خود کو آزاد کرنا چاہئے تاکہ جو ہماری بیٹیاں اور بہنیں ہاتھوں میں مہندی لگائے اور عمر کی اس دہلیز کو پار کرگئی ہیں جو شادی کے لئے مناسب تصور کی جاتی ہے لیکن صرف رسومات بد سے ان کی شادیاں نہیں ہو پارہی ہیں ایسی ہی بے کس اور بے بس لڑکیوں کے لئے اوقاف کمیٹی آگے آئی ہے اور اس نے یہ قدم اٹھایا کہ شادی بیاہ کے بندھنوں کو رسومات بد اور اصراف سے نجات دلائی جاے گی اور شادی بیاہ پر خرچ ہونے والی رقومات کی بھی نہ صرف حد مقرر کی جاے بلکہ وازہ وان کا مینو بھی کم کرکے اسے اس قدر مختصر کیا جاے جو ہر والدین کے لئے مالی لحاظ سے قابل برداشت ہو ۔مقامی اوقاف کمیٹی کا یہ اقدام ہر کشمیری کے لئے باعث فخر قرار دیا جاسکتاہے جس کی ہر مکتب فکر کی طرف سے نہ صرف سراہنا کی جا رہی ہے بلکہ اس اوقاف کمیٹی کے اراکین کو سوشل میڈیا پر چاروں اور سے لوگوں کی طرف سے مکمل تعاون حمایت کا یقین دلایا گیا ۔کہا جارہا ہے کہ اس اوقاف کمیٹی کی دیکھا دیکھی دوسری اوقاف کمیٹیوں نے بھی اصلاح معاشرے کے لئے اسی طرح کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے ۔شادی بیاہ کی تقریب ہو یا کسی کے فوت ہونے پر تعزیتی مجالس کے انعقاد کا معاملہ ہو ہر صورت میں کفایت شعاری کی بھر پور گنجایش ہے ۔فضول خرچی کار شیطان ہے اور ہر فرد بشر کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے ۔کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ وازہ وان میں بے تحاشہ فضول خرچی ،بشمول پلاسٹک کی اشیاءیعنی ڈسپوزیبل اشیاءپر لاکھوں کا خرچہ ،خوراک کا زیاں جس سے نہ صرف انسان مالی طور پر ختم ہوکر رہ جاتا ہے بلکہ اس سے ماحول کو بھی سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے کو روکنے اور لوگوں کوان رسومات بدسے نجات کے لئے اوقاف کمیٹی نے تہیہ کررکھا ہے اور اس پر کام بھی شروع کیا گیا ہے اس لئے لوگوں سے گذارش ہے کہ وہ از خود شادی بیاہ کی تقاریب کا سادگی سے انعقاد عمل میں لائیں اور رسومات بد سے ہر صورت میں اجتناب کریں۔










